بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر ،5 بیٹے اور 5 بیٹیوں میں تقسیم میراث


سوال

میری والدہ کا انتقال 2025 میں ہوا، ان کے انتقال کے بعد زندہ ورثاء میں ان کے شوہر، 5 بیٹے اور 5 بیٹیاں شامل ہیں، والدہ کے والدین اس سے پہلے وفات پا چکے تھے، مذکورہ ورثاء کے درمیان وراثت کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

جواب

مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے  کہ سب سے پہلے  اگر مرحومہ کے  ذمہ کو ئی قرض ،تو اس کو کل ترکہ سے ادا کر نے کے بعداور  اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اس کو  ما بقیہ ترکہ کے ایک تہائی سے پو راکرنے کے بعد  مرحومہ کے کل منقولہ و غیر منقولہ ترکہ کو 20  حصوں میں تقسیم کر کے 5حصے مرحومہ کے شوہر کو اور 2,2 حصے مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو اور 1,1حصے مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے :

میت:20/4

شوہربیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
13
52222211111

یعنی فیصد کے اعتبار سے  مرحومہ کے ترکہ کا  25 فیصد مرحومہ کے شوہر کو، اور 10-10 فیصد مرحومہ  کے ہر  ایک بیٹے کو اور 5-5 فیصد مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا ۔فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100356

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں