
میری والدہ کا انتقال 2025 میں ہوا، ان کے انتقال کے بعد زندہ ورثاء میں ان کے شوہر، 5 بیٹے اور 5 بیٹیاں شامل ہیں، والدہ کے والدین اس سے پہلے وفات پا چکے تھے، مذکورہ ورثاء کے درمیان وراثت کی تقسیم کس طرح ہوگی؟
مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اگر مرحومہ کے ذمہ کو ئی قرض ،تو اس کو کل ترکہ سے ادا کر نے کے بعداور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اس کو ما بقیہ ترکہ کے ایک تہائی سے پو راکرنے کے بعد مرحومہ کے کل منقولہ و غیر منقولہ ترکہ کو 20 حصوں میں تقسیم کر کے 5حصے مرحومہ کے شوہر کو اور 2,2 حصے مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو اور 1,1حصے مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
صورت تقسیم یہ ہے :
میت:20/4
| شوہر | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 3 | |||||||||
| 5 | 2 | 2 | 2 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومہ کے ترکہ کا 25 فیصد مرحومہ کے شوہر کو، اور 10-10 فیصد مرحومہ کے ہر ایک بیٹے کو اور 5-5 فیصد مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا ۔فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100356
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن