
ایک عورت کا انتقال ہوا ہے، اس کے ورثاء میں شوہر، دو بہنیں، اور ایک چچا ہے، اس کے والدین اس کی زندگی میں انتقال کر گئے تھے، اور اس کی کوئی اولاد بھی نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے بھائی ہیں، تو اس کی میراث کس تناسب سے تقسیم کی جائے گی؟
صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ ترکہ سے مرحومہ کے حقوق متقدمہ یعنی اگر مرحومہ پر کوئی قرض ہو تو اس کو کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو ایک تہائی ترکہ سے پورا کرنے کے بعد بقیہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو7حصوں میں تقسیم کر کے 3حصے مرحومہ کے شوہر کو اور 2،2 حصے مرحومہ کی ہر ایک بہن کو ملیں گے، نیز مرحومہ کے چچاکا اس کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہو گا،اور مرحومہ کے تجہیز و تکفین کے اخراجات اس کے شوہر کے ذمہ ہوں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت:6۔عول:7
| شوہر | بہن | بہن | چچا |
| 3 | 2 | 2 | م |
یعنی مرحومہ کے کل ترکہ میں سے 42.8571فیصد اس کے شوہر کو اور 28.571فیصد مرحومہ کی ہر ایک بہن کو ملے گا۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101909
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن