بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر اور دو بہنوں کے درمیان تقسیم میراث


سوال

ایک عورت کا انتقال ہوا ہے، اس کے ورثاء میں شوہر، دو بہنیں، اور ایک چچا ہے، اس کے والدین اس کی زندگی میں انتقال کر گئے تھے، اور اس کی کوئی اولاد بھی نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے بھائی ہیں، تو اس کی میراث کس تناسب سے  تقسیم کی جائے گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  ترکہ سے مرحومہ کے حقوق متقدمہ یعنی اگر مرحومہ پر کوئی قرض ہو تو اس کو کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو ایک تہائی ترکہ سے پورا کرنے کے بعد  بقیہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو7حصوں میں تقسیم کر کے 3حصے مرحومہ کے شوہر کو اور 2،2  حصے مرحومہ کی ہر ایک بہن کو ملیں گے، نیز مرحومہ کے چچاکا اس کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہو گا،اور مرحومہ کے تجہیز و تکفین کے اخراجات اس کے شوہر کے ذمہ ہوں گے۔ 

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:6۔عول:7

شوہربہنبہنچچا
322م

یعنی مرحومہ کے کل ترکہ میں سے 42.8571فیصد اس کے شوہر کو اور 28.571فیصد مرحومہ کی ہر ایک بہن کو ملے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101909

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں