
میرے والد کا آٹھ سال پہلے انتقال ہوگیا ہے، ورثاء میں ایک بیوہ ،دو بیٹے، اور تین بیٹیاں ہیں، والد صاحب کے ترکہ میں ایک دو کمرے کا فلیٹ اور دکان ہے، اس فلیٹ میں والدہ دو بیٹوں کے ساتھ رہتی ہیں، اور گھر کا خرچہ دکان کے کرائے سے چلتا ہے، ہم تینوں بہنوں نے اپنی والدہ کی موجودہ معاشی حالت کی وجہ سے اپنے حصہ کا مطالبہ نہیں کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیاہم تینوں بہنوں کے شوہروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہم پر اصرار کریں یا ہمارے بھائیوں سے اصرار کریں کہ میری بیوی کا حصہ دو ؟جبکہ ہم خود مطالبہ نہیں کررہیں، کیا شرعاً کسی کے شوہر کو اس طرح مطالبہ کا حق حاصل ہے ؟
واضح رہے کہ کسی کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ میں تمام شرعی ورثاء اپنے حصوں کے بقدر شریک ہوتے ہیں، اور اپنے کل یا کچھ وراثتی حصہ پر قبضہ کیے بغیر اپنے حصہ سے دستبرداری بھی درست نہیں ہوتی، البتہ تمام ورثاء باہمی رضامندی سے وراثت کی تقسیم کو مؤخر کریں، تو ایسا کر سکتے ہیں، کسی غیر وارث کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مرحوم کے ورثاء کو مجبور کرے کہ آپ لوگ میراث تقسیم کرو، یا پھر کسی ایک کو کہے کہ اپنا حصہ لو۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ اور اس کی بہنیں اپنے والد کی میراث کی تقسیم کے بارے میں خود مختار ہیں کہ ابھی تقسیم کریں، یا پھر والدہ کے معاشی حالات بہتر ہونے کے بعد، ان کے شوہروں کا شرعاً کوئی حق نہیں ہےکہ وہ اپنی بیویوں یا ان کے بھائیوں کو مجبور کریں کہ میری بیوی کا حصہ دو۔
تکملۃ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:
"وفيها: ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الإرث جبري لا يصح تركه اهـ".
(کتاب الدعوی،باب دعوی النسب،ج:۸،ص:۲۰۸،دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102094
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن