بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے نان نفقہ نہ دینے کی صورت میں طلاق یا خلع لینے کا حکم


سوال

میرے شوہر کا میرے ساتھ رویہ درست نہیں ہے اور جسمانی طور پر بھی کمزور ہیں اور وہ مجھے ایک باندی کی طرح رکھتے ہیں، نہ نان نفقہ دیتے ہیں، نہ بچوں کے کھانے پینے کا انتظام اور نہ ان کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، تو کیا ان حالات میں خلع  لے سکتی ہوں  عدالت سے؟  شرعی راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

شریعت مطہرہ میں جس طرح  بیوی پر شوہر کے حقوق کی بجاآوری لازم ہے، اسی طرح شوہر پر بھی بیوی کے حقوق کا خیال رکھنا اور اس کی رعایت کرنا لازم ہے، شوہر پر بیوی کے حقوق میں  سے  یہ ہے کہ شوہر بیوی پر اپنی حیثیت کے مطابق  خرچ کرتا رہے، اس کے کھانے پینے اور دیگر ضرویات زندگی کا خیال رکھے، اس کے نان نفقہ کی ذمہ داریاں ادا  کرنے کے ساتھ ساتھ حسن معاشرت اور اچھے رویہ کے ساتھ پیش آیا کرے،لہذا سائلہ  میں سائل کے شوہر  کو چاہیے کہ اپنے رویہ پر نظر ثانی کرکے اپنی اصلاح کی فکر کرے اور بیوی  بچوں کے حقوق کا خیال رکھے، اگر  سائلہ کے شوہر  کی اصلاح کی کوئی صورت نہ ہو  اور  اس کے ساتھ نباہ مشکل ہو تو سائلہ  اولاً اپنے شوہر   کو طلاق دینے پر آمادہ کریں، اگر وہ طلاق دینے پر  آمادہ نہ ہو  تو اس کو خلع دینے پر  آمادہ کریں ، اگر وہ خلع دینے پر بھی آمادہ نہ ہو  تو سائلہ خاندان کے بڑوں اور علاقہ کے معززین کے ذریعے اپنے  شوہر  پر دباؤ ڈالے کہ یا تو  اپنی بیوی کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے گھر بسائے یا اس کو طلاق یا خلع دے دے، اگر اس کے باوجود سائلہ کے شوہر  کے رویہ میں تبدیلی نہیں آئی اور وہ بدستور اپنی روش پر قائم رہا   اور     باوجود قدرت کے نان نفقہ ادا نہ کرے اور  بیوی کے نان نفقہ کا کوئی اور انتظام بھی نہ ہو سکے یعنی نہ تو کوئی شخص نان نفقہ کا بندوبست کرتا ہو اور نہ خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو یا اگر بسہولت  یا بدقت خرچ کا انتظام ہوسکے ، لیکن شوہر سے علیحدہ رہنے میں ابتلاء معصیت کا اندیشہ ہو، تو پھر نکاح ختم کروانے کا طریقہ یہ ہے کہ بیوی کسی مسلمان جج کی عدالت میں شوہر کے نان نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر فسخ نکاح کا مقدمہ دائر کرے، اور  عدالت میں اولاً شرعی گواہوں کے ذریعے اپنے نکاح کو ثابت کرے، بعدازاں شرعی گواہوں کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ شوہر باوجود قدرت کے نان نفقہ نہیں دیتا اور نہ ہی نان نفقہ کا انتظام میرے پاس موجود ہے، اور نہ ہی نان نفقہ میں نے معاف کیا ہے، اس کے بعد عدالت اسے بذریعہ سمن عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیتی ، اگر شوہر عدالت میں حاضر ہوجائے، اور نان نفقہ دینے پر رضامندی ظاہر کردےتو عدالت کو فسخ نکاح کا اختیار نہیں ہوگا، اگر وہ عدالت میں حاضر ہوکر نان نفقہ دینے سے انکار کر دےیا سرے سے عدالت میں حاضر ہی نہ ہو تو عدالت کو اس کی غیر موجودگی میں بھی گواہوں کی گواہی کی بنیاد فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہوگا جس کے بعد عدت گزار کر بیوی کا دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا، لیکن اگر شوہر عدالت میں حاضر نہ ہو اور نہ ہی گواہوں کے ذریعہ سے متذکرہ بالا طریقے سے خلع کی ڈگری حاصل کی جائے تو ایسا خلع شرعا معتبر نہیں۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حكمه ، الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، ج:1، ص:488، ط:دار الفكر بيروت)

حیلہ ناجزہ میں ہے:

"متعنت: اصطلاح میں اس شخص کو کہتے ہیں جو باوجود قدرت کے بیوی کے حقوق نان نفقہ وغیرہ ادا نہ کرے اس کا حکم بھی بوقت  ضرورت شدیدہ ستم رسیدہ مستورات کی رہائی کے لیے مالکیہ مذہب سے لیا گیاہے جو ذیل کے سوال و  جواب  میں مذکور ہے"

سوال:(1)  جو شخص باوجود قدرت کے اپنی زوجہ کے حقوق نان نفقہ ادانہ کرتا ہو، کیا اس کی زوجہ  کو حق حاصل ہے کہ کسی طرح اپنے آپ کو اس کی زوجیت سے نکال سکے، اگر ہے تو اس کی کیا صورت ہے۔

(2)اگر قاضی ان میں تفریق کرسکتا ہو، تو جب قاضی اس متعنت کی زوجہ پر طلاق واقع کرچکا جو نان نفقہ نہ دیتا ہو اس وقت یا اس کے بعد پھر کسی وقت اپنی حرکت سے باز آجائے اور نان نفقہ وغیرہ حقوق ادا کرنے کا وعدہ کرے تو کیا وہ عورت پھر اس کو مل جائے گی اور اگر اس کو مل سکتی ہے تو قبل عدت اور بعد عدت میں یا قبل نکاح ثانی  اور بعد نکاح ثانی میں کچھ فرق ہوگا یا نہیں؟

الجواب:زوجہ متعنت کو اول تو لازم ہے کہ کس طرح خاوند سے خلع وغیرہ کرلے،لیکن اگر باوجود سعی بلیغ کے کوئی صورت نہ بن سکے تو سخت مجبوری کی حالت میں مذہب مالکیہ پر عمل کرنے گنجائش ہے، کیوں کہ ان کے  نزدیک زوجہ متعنت کو تفریق کا حق مل سکتا ہے، اور سخت مجبوری کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ عورت کے خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو سکے، یعنی نہ کوئی شخص عورت کے خرچ کا س بندو بست کرتا ہو اور نہ خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو  اور دوسری صورت مجبوری کی یہ ہے کہ اگر چہ سہولت یا بدقت خرچ کا انتظام ہو سکتا ہے، لیکن شوہر سے علیحدہ رہنے میں ابتلاء معصیت کا قومی اندیشہ ہو  اور صورت تفریق کی یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ قاضی اسلام یا مسلمان حاکم اور ان کے نہ ہونے کی صورت میں جماعت مسلمین  کے سامنے پیش کرے، اور جس کے پاس پیش ہو وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ سے پوری تحقیق کرے۔ اور اگر عورت کا دعوی صحیح ثابت ہو کہ باوجود وسعت کے خرچ نہیں دیتا ، تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنی عورت کے حقوق ادا کر یا طلاق دے، اور نہ ہم تفریق کردیں گے، اس کے بعد بھی اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل نہ کرے تو قاضی یا شرعا جو اس کے قائم مقام ہو طلاق واقع کردے، اس میں کسی مدت کے انتظار اور مہلت کی باتفاق مالکیہ ضرورت نہیں۔ الرواية الثالثة والعشرين من الفتوى للعلامة سعيد بن صديق.

(حکم زوجہ متعنت ، ص:72، ط: مکتبۃ البشری کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144612100716

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں