بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر اور بیوی کے سابقہ اولاد کی آپس میں نکاح کا حکم


سوال

ایک عورت ہے جس کے 2 بیٹے ہیں اورایک آدمی  ہے جس کا1 بیٹا اور  3 بیٹیاں ہیں،اگر یہ مرد  اور عورت آپس میں نکاح کر لیں :

1۔کیا دونوں کے بیٹے اور بیٹیاں  ماں اور باپ دونوں کے لیے محرم ہوں گے؟

2۔بچوں کا آپس میں محرم نامحرم کا کیا سلسلہ ہوگا؟ کیا وہ 3 بیٹیاں ان دو بیٹوں کے لیے محرم ہوں گی؟ 

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ مرد و عورت آپس میں  نکاح کرنے  کے بعد ازدواجی تعلق قائم کرلیں، تو دونوں کی پہلے سے موجود اولاد مذکورہ مرد و خاتون کے لیے محرم ہوجائے گی۔

2۔    مذکورہ بچے، یعنی مرد کی سابقہ بیوی سے جو  بیٹیاں ہیں اور عورت کے سابق شوہر سے جو بیٹے ہیں، وہ  آپس میں محرم نہیں ہوں گے،اور ان کا آپس میں نکاح جائز ہوگا ۔

قرآن مجید میں  ہے:

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ وَبَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ وَعَمّٰتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَاُمَّھٰتُ نِسَاۗىِٕكُمْ وَرَبَاۗىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕكُمُ الّٰتِيْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ  ۡ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ [النساء : 23]

ترجمہ :تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں  اور تمہاری بہنیں  اور تمہاری پھوپھیاں  اور تمہاری خالائیں  اور بھتیجیاں اور بھانجیاں  اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے (یعنی انا) اور تمہاری وہ بہنیں جو دودھ پینے کی وجہ سے ہیں  اور تمہاری بیبیوں کی مائیں  اور تمہاری بیٹیوں کی بیٹیاں جو کہ تمہاری پرورش میں رہتی ہیں ان بیبیوں سے کہ جن کے ساتھ تم نے صحبت کی ہو  اور اگر تم نے ان بیبیوں سے صحبت نہ کی ہو تو تم کو کوئی گناہ نہیں۔ (بیان القرآن)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(القسم الثاني المحرمات بالصهرية). وهي أربع فرق (والثانية) بنات الزوجة وبنات أولادها وإن سفلن بشرط الدخول بالأم."

(كتاب النكاح،الباب الثالث في المحرمات،ج:1،ص: 274،ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144701102010

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں