بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر نے بیوی سے کہا کہ میری ماں کی خدمت سے پہلے میری خدمت تم پر حرام ہے، تو کیا حکم ہے:؟


سوال

ساس کی خدمت نہ کرنے کی وجہ سے میاں بیوی میں جھگڑا ہوا، جس کے بعد شوہر نے غصہ کی حالت میں بیوی سے کہا کہ:"میری ماں کی خدمت سے پہلے میری خدمت تم پر حرام ہے،"  کیا یہ قسم یا ظہار کی ایک صورت ہے ؟ کیا اس پر کفارہ واجب ہوگا؟ کیا بیوی پر شوہر کی خدمت یا شوہر سے کوئی بھی تعلقات رکھنا حرام ہو جائے گا؟ یا پھر بغیر کفارہ کے شوہر پر توبہ و استغفار واجب ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر بیوی نے شوہر کی اس بات کو قبول کیا کہ "ہاں مجھ پر  میری ساس کی  خدمت سے پہلے آپ  کی خدمت  حرام ہے،" تو ایسی صورت میں یہ بیوی کے حق میں قسم ہوجائے گی، اس صورت میں اگر بیوی اپنی ساس کی خدمت سے پہلے شوہر کی خدمت کرے گی، تو اس پر کفارہ لازم ہوگا، لیکن اگر بیوی نے اس کو قبول نہیں کیا، تو یہ بیوی اور شوہر دونوں کے حق میں قسم نہیں ہوگی۔

مبسوط سرخسی میں ہے:

"ومن هذا الجنس ‌تحريم الحلال فإنه ‌يمين يوجب الكفارة عندنا."

(كتاب الأيمان، ج:8، ص:134، ط:دار المعرفة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"الظهار هو تشبيه الزوجة أو جزء منها شائع أو معبر به عن الكل بما لا يحل النظر إليه من المحرمة على التأبيد ولو برضاع أو صهرية كذا في فتح القدير سواء كانت الزوجة حرة أو أمة أو مكاتبة أو مدبرة أو أم ولد أو كتابية."

(كتاب الطلاق، ج:1، ص:505، ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101346

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں