بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی اجازت کے بغیر پیر صاحب کے پاس بیعت کے لیے جانا


سوال

ہندہ کسی پیر صاحب سے بیعت ہے اور وہ اس کے پاس جانا چاہتی تھی، لیکن شوہر نے جانے سے منع کردیا، جس پر تکرار ہوگئی، شوہر نے کہا کہ "میں تمہیں طلاق، طلاق، طلاق دے دوں گا"۔ اب عورت کا اس طرح جانا اور شوہر کے مذکورہ الفاظ کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ اصلاً انسان پر اپنے نفس کی اصلاح کرنا واجب ہے، اس کے لیے جس طرح اور ذرائع ہیں، اسی طرح متبع شریعت و سنت اور متقی شیخ سے بیعت ہوجانا بھی ایک ذریعہ ہے، لیکن یہ بیعت یا اصلاحی تعلق واجب نہیں، بلکہ واجب اصلاحِ نفس ہے، جس کے لیے اور ذرائع بھی اختیار کیے جاسکتے ہیں، جب کہ عورتوں کا مرد پیر سے شرعی پردہ بھی ضروری ہے، لہٰذا  عورت کو اگر کسی  شیخ سے بیعت ہونے کے لیے اس کے والد یا شوہر منع کرے اور اس کی اصلاح کے دوسرے طریقے موجود ہوں، تو اس عورت کے لیے ان کے حکم کی تعمیل ضروری ہوگی۔ابھی طلاق نہیں ہوئی ،جائے گی، دےگاتو ہوگی ورنہ نہیں۔

الترغیب والترہیب للمنذری میں ہے:

" وروي عن ابن عباس رضي الله عنهما أن امرأة من خثعم أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله أخبرني ما ‌حق ‌الزوج ‌على ‌الزوجة فإني امرأة أيم فإن استطعت وإلا جلست أيما قال فإن حق الزوج على زوجته إن سألها نفسها وهي على ظهر قتب أن لا تمنعه نفسها ومن حق الزوج على الزوجة أن لا تصوم تطوعا إلا بإذنه فإن فعلت جاعت وعطشت ولا يقبل منها ولا تخرج من بيتها إلا بإذنه فإن فعلت لعنتها ملائكة السماء وملائكة الرحمة وملائكة العذاب حتى ترجع قالت لا جرم ولا أتزوج أبدا'"

(کتاب النکاح وما تعلق به،ج:3، ص:37، ط:دار الكتب العلمية)

صورتِ مسئولہ میں شوہر نے اگر واقتاً اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے ہیں کہ: "میں تمہیں طلاق طلاق طلاق دے دوں گا" تو یہ مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی ہے، ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144704101560

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں