
میری شادی سن 2020 میں ہوئی تھی، شادی کے بعد میرے اور شوہر کے درمیان شدید مزاجی اختلافات اور ان کے ناروا رویّے (ذہنی دباؤ اور ٹارچر وغیرہ) کی وجہ سے ازدواجی زندگی میرے لیے انتہائی مشکل ہو گئی، میں نے کافی عرصہ تک صبر اور اصلاح کی کوشش کی، لیکن حالات بہتر نہ ہوئے، جس کی وجہ سے میں 2022 میں اپنے والدین کے گھر آ گئی۔ اس کے بعد سے آج تک تقریباً پانچ سال ہو چکے ہیں، میں اپنے والدین کے گھر ہی رہ رہی ہوں، اس دوران میرے شوہر نے دوسری شادی بھی کر لی ہے، اور انہوں نے نہ تو مجھ سے کوئی تعلق رکھا، نہ نان نفقہ دیا، اور نہ ہی میری خبرگیری کی، میرے والدین نے کئی مرتبہ ان سے باہمی رضامندی سے طلاق لینے کی کوشش کی، لیکن وہ ہر بار مختلف بہانے یا مطالبات پیش کر کے انکار کرتے رہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ وہ اپنی دوسری بیوی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ میں گزشتہ پانچ سال سے معلق حالت میں ہوں۔ میں اپنی زندگی کو اس غیر یقینی کیفیت سے نکال کر آگے بڑھانا چاہتی ہوں، اس لیے عدالت کے ذریعے خلع یا فسخ نکاح حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ لیکن میرے والدین اور بھائی اس بات کی اجازت نہیں دے رہے اور مجھے صبر اور انتظار کا مشورہ دیتے ہیں۔ اب مزید انتظار میرے لیے ذہنی اور عملی طور پر مشکل ہو چکا ہے۔ لہٰذا میرا سوال یہ ہے: اگر میں اپنے والدین اور بھائیوں کی رضامندی کے بغیر، شرعی اصولوں کے مطابق عدالت کے ذریعے خلع یا فسخ نکاح کا کیس دائر کرتی ہوں، تو کیا یہ میرے لیے جائز ہوگا؟ کیا اس اقدام پر مجھے شرعاً گناہ ہوگا یا نہیں؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعہ کے مطابق اور درست ہے تو سائلہ کے شوہر کا رویہ انتہائی نامناسب اور غیر معقول ہے، اگر کسی وجہ سے شوہر کے لیے نباہ ممکن نہ ہو اور مسئلہ کی حل کی کوئی صورت بھی نظر نہ آتی ہو اور شوہر اور بیوی کے درمیان ذہنی ہم آہنگی نہیں ہے تو بیوی کے معاملہ کو لٹکانے کے بجائے شوہر کو ایک طلاق دے کر یا خلع پر رضامندی ظاہر کے نکاح کو ختم کردینا چاہیے،معاملہ کو لٹکا کر بیوی کی حق تلفی کرنا اور اس سے نہ رابطہ کرنا، نہ خرچہ دینا اور نہ ہی طلاق پر رضامند ہونا اور نہ خلع پر، یہ مسلسل اور مستقل گناہ شوہر کے کاندھے پر ہے۔سائلہ دونوں خاندانوں کے بڑوں کو بیچ میں ڈال کر طلاق یا خلع کے ذریعہ شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کی کوشش کرے، سائلہ کے گھر والوں کو چاہیے کہ اپنی بیٹی کے اس معاملہ میں جلد کوئی مثبت اور بیٹی کے فائدے کا فیصلہ کرانے میں خوب کوشش کریں ۔
اگر طلاق کے بدلے شوہر مال کا مطالبہ کرتا ہے اور واقعۃ زیادتی لڑکے کی طرف سے ہے، تو اس کے لیے طلاق کے بدلے کسی قسم کا مالی مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ، البتہ اگر وہ مال لے کر طلاق دے دیتا ہے تو طلاق واقع ہوجائے گی۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ} [البقرة: 229]
ترجمہ:
سو اگر تم لوگوں کو یہ احتمال ہو کہ وہ دونوں ضوابطِ خداوندی کو قا ئم نہ کرسکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوگا اس (مال کے لینے دینے) میں جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑالے۔ (از بیان القرآن)
مشكاة المصابيح میں ہے:
"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."
(باب الغصب والعارية، الفصل الثاني، ج : 2، ص : 889، برقم : 2946، ط : المكتب الإسلامي)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول."
(کتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة، ج: 3، ص: 145، ط: دار الكتب العلمية)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"[الفصل الثالث في الطلاق على المال]
إن طلقها على مال فقبلت وقع الطلاق ولزمها المال وكان الطلاق بائنا كذا في الهداية."
(كتاب الطلاق، ج:1، ص: 495، ط: دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101302
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن