
ایک لڑکی کی شادی ہوگئی، پھر چند سال بعد اس کے شوہر کا انتقال ہوگیا اور عدت بھی گزر گئی، اب لڑکی کے سسرال والے کہہ رہے ہیں کہ ہم آپ کا نکاح اپنے دوسرے بیٹے سے کرتے ہیں، حالاں کہ لڑکی اس نکاح پر راضی نہیں ہے۔
کیا سسرال والے لڑکی پر دوسرے بیٹے سے نکاح پر زبردستی یا مجبوری کرسکتے ہیں؟
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نکاح کے معاملہ میں عاقلہ بالغہ لڑکی کے والی کو اس بات کا حکم دیتی ہے کہ اس کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر نہ کرے، بلکہ اس کے نکاح کے لیے ولی اس سے اجازت اور رضامندی حاصل کرے، اگر لڑکی نکاح پر راضی نہ ہو، تو ولی کے لیے اس کا زبردستی نکاح کرنا درست نہیں ہوگا اور بغیر اجازت و رضامندی کے کیا گیا نکاح شرعاً منعقدہی نہیں ہوگا، چنانچہ جب ولی کے لیے یہ حکم ہے تو غیر ولی کے لیے بدرجہ اولٰی اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ لڑکی کی بغیر اجازت اور رضامندی کے نکاح کروائے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں بیوہ کا نکاح زبردستی اس کی رضامندی کے بغیر کروانا شرعاً جائز نہیں ہے اور یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج."
(كتاب النكاح، ج:1، ص:287، ط:دار الفكر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101984
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن