بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی سے تیرا میرے ساتھ ایک بستر پر لیٹنا حرام ہے کہنے کا حکم


سوال

مؤرخہ 12 اپریل 2026 کو میرے اور میرے شوہر کے درمیان ناچاقی ہوگئی تھی، جس کے بعد انہوں نے مجھے دو وقتوں میں مندجہ ذیل الفاظ کہے:

1۔آج کے بعد سے ان شاء اللہ تو مجھ پر حرام ہے۔

2۔تیرا میرے ساتھ ایک بستر پر لیٹنا حرام ہے۔

مندرجہ ذیل الفاظ کے شرعی حکم میں میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون سے ان کے شوہر نےجو جملے استعمال کیے ہیں ان سے مذکورہ خاتون پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے، تاہم شوہر کے جملے تیرا میرے ساتھ ایک بستر پر لیٹنا حرام ہےسےقسم منعقد ہوگئی، لہذا جب شوہر اپنی بیوی کے ساتھ بستر پر لیٹے گا تو اپنی قسم سے حانث ہوجانے کے سبب اس پر قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا۔ 

قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

﴿ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَۚ-تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(1)قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْۚ-وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْۚ-وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(2)(التحريم)

دوسری جگہ ارشاد ہے:

﴿ لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ وَلكِنْ يُؤاخِذُكُمْ بِما عَقَّدْتُمُ الْأَيْمانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعامُ عَشَرَةِ مَساكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمانِكُمْ إِذا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمانَكُمْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آياتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ (المائدة: 89)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"إذا قال لامرأته: أنت طالق إن شاء الله - تعالى - متصلا به لم يقع الطلاق."

(كتاب الطلاق، ج: 1، ص: 454، ط: دار الفكر)

وفیہ ایضاً:

(وأما الكناية) فكل لفظ لا يسبق إلى الفهم معنى الوقاع منه ويحتمل غيره فما لم ينوي لا يكون إيلاء ۔۔۔۔ لا أبيت معك في فراش لا أصاحبها لا يقرب فراشها أو ليسوءنها أو ليغيظنها كذا في محيط السرخسي.

(کتاب الایلاء، ج: 1، ص: 477، ط: دار الفكر)

فتح القدیر میں ہے:

"والكناية نحو لا أمسك لا آتيك لا أغشاك لا ألمسك لأغيظنك لأسوأنك لا أدخل عليك لا أجمع رأسي ورأسك لا أضاجعك لا أقرب فراشك فلا يكون إيلاء بلا نية ويدين في القضاء."

(کتاب الطلاق، باب الإیلاء، ج: 1، ص: 189، ط: دار الفکر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711100188

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں