بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر بچے کی تربیت کے معاملہ میں بیوی سے مطمئن نہ ہو اور بیوی میکے چلی جائے تو کیا حکم ہے؟


سوال

میری بیوی ہمارے آپس کے جھگڑے کی وجہ سے میکے چلی گئی ہے، لڑائی اس بات پر ہوئی کہ وہ بچہ کو لے کر باتھ روم بند کرکے بیٹھی تھی میں نے بچہ مانگا کہ دے دو میں کپڑے پہنا دوں اور دوائی لگادوں،اس پر وہ ناراض ہو کر چلی گئی، کئی بار وہ میکے جاکر وہیں رہتی ہے،عدالت کے ذریعہ واپس آنے کا نوٹس بھیجا لیکن وہ نہیں آتی ہے، مین جب لینے جاتا ہوں تو بیوی بچوں کو گھر والے گھر میں تالہ لگا کر بند کردیتے ہیں،لڑکی کی خواہش کے مطابق اس کو میں نےتیسری منزل پر الگ پورشن بنا کر دیا جس میں صرف وہ رہتی ہے، اس کی خواہش کے مطابق کوئی نہیں جاتا ہےسوائے میری والدہ کے وہ بھی کبھی کبھار آجاتی ہے،میری بیوی کا میرے ساتھ رویہ صحیح نہیں ہے،بدکلامی کرتی ہے،گالم گلوچ وغیرہ کرتی ہےاور نہ ہی اس کے اخلاق اچھے ہیں، میرا چار سالہ بیٹا اس کے پاس ہےاب میں چاہتا ہوں کہ اس کی تربیت میں خود کروں، اس کے بھائی طلاق کا مطالبہ کررہے ہیں اور میں دینا نہیں چاہتا ہوں میں بیوی کو واپس لانا چاہتا ہوں لیکن وہ کہتی ہے کہ الگ کرایہ کا گھر لے کر دو اور میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ہوں۔

اب سوال یہ ہیں کہ:

1.کیامیں ااپنے بیٹے کو اپنے پاس رکھ سکتا ہوں ؟تاکہ اس کے اخلاق پر برا اثر نہ پڑےْ۔

2.میں دوبارہ گھر بسانا چاہتا ہوں تو کیا بیوی کے لیے الگ گرایہ کے مکان کا مطالبہ درست ہے؟جب کہ اس کو میں نے الگ پورشن مین رہائش دی ہوئی ہے۔

3.لڑکی کہہ رہی ہے کہ میں بیٹے کو اپنی مرضی کے مطابق تعلیم و تربیت دوں گی ،شوہر کی خواہش کے مطابق نہیں تو کیا اس کے لیے یہ کرناجائز ہے؟

جواب

1/3.صورت مسئولہ میں سائل نے جو وجوہ ذکر کیے ہیں ان سے ماں یعنی سائل کی بیوی سے شرعا حق حضانت ساقط نہیں ہوتا ہے، بچے کی پرورش اور تربیت کا حق شرعا ماں کو ہی حاصل ہے، البتہ اگر سائل کی بیوی بخوشی بچے کو سائل کے حوالے کردے تو سائل اس کی تربیت کرسکتا ہے، تاہم سائل کو چاہیے کہ باہمی ناچاکیوں کو ختم کرنے کی مکمل کوشش کرے تاکہ بچے کو ماں اور باپ دونوں کی مکمل توجہ مل سکے اور اس کی اچھی تربیت ہوسکے۔ 

2.شريعت كے احكامات كے مطابق شوهر پربیوی کو  الگ کمرہ دینا (جس میں رہائش کے علاوہ دیگر ضروریات، کچن، غسل خانہ اور بیت الخلا موجود ہو) لازم ہے،اس سے زائد بیوی کے مطالبہ پر اس کو الگ گھر دینا ضروری نہیں ہے، لهذا صورت مسئوله ميں جب شوہر نے بیوی کو الگ پورشن دیا ہوا ہے تو بیوی کا کرایہ کےگھر کامطالبہ کرنا درست نہیں۔

فتاوی ہندیہ  میں ہے:

"أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي۔۔۔۔۔وكذا لو كانت سارقة أو مغنية أو نائحة فلا حق لها هكذا في النهر الفائق."

(كتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج:1، ص:541، ط:رشيدية)

فتاوٰی شامی میں ہے:

"( تجب) على الزوج... وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) ...(بقدر حالهما) كطعام، وكسوة، وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده : لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به.

قوله ( وفي البحر عن الخانية ) : عبارة الخانية فإن كانت دار فيها بيوت، وأعطى لها بيتا يغلق، ويفتح لم يكن لها أن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها."

(باب النفقة، مطلب في مسکن الزوجة : ج 3 ، ص 601، ط : سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101701

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں