
ایک عورت کا شوہر کمائی کرنے سے قاصر ہے، اور بغیر کمائی کے گھر کا گزارا مشکل ہو رہا ہے۔ چنانچہ وہ عورت اپنے شوہر کی اجازت سے ایک این جی او کے دفتر میں ملازمت کرتی ہے۔ اس دفتر میں مرد اور عورت دونوں ایک ساتھ کام کرتے ہیں، تاہم وہ عورت حتیٰ الامکان مردوں سے میل جول سے پرہیز کرتی ہے اور پردے کے متعلق جو شرعی احکام ہیں، ان کی پابندی کرتی ہے۔البتہ کام کی نوعیت کی وجہ سے بعض اوقات اسے مردوں کے ساتھ جانا پڑتا ہے اور کام کے سلسلے میں ان سے ضروری بات چیت بھی کرنی پڑتی ہے۔پوچھنا یہ ہےکہ کیا اس عورت کی کمائی ہوئی رقم شرعاً حلال شمار ہوگی یا نہیں؟نیز اس کی کمائی کھاتے ہوئے پورے گھر والے زندگی بسر کرتے ہیں،تو کیا اب اس عورت کی کمائی ہوئی رقم کھانے والا عالم لڑکا امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا مذکورہ عورت کا شوہر کمائی کرنے سے قاصر ہو اور گھر کا گزارا مشکل ہو گیا ہو، کوئی کمانے والا موجود نہ ہو، اور وہ عورت اپنے شوہر کی اجازت سے ملازمت کرتی ہو، نیز وہ کام کے دوران حتیٰ الامکان شرعی حدود ( مکمل پردہ، غیر محرم مردوں سے اختلاط سے اجتناب، خلوت کی صورت سے بچاؤ، اور کام کے ماحول کا فتنہ و فساد سے محفوظ ہونا ) کی پابندی بھی کرتی ہو،اور صرف کام کے تقاضے کے تحت بقدرِ ضرورت گفتگو کرتی ہو،تو ایسی صورت میں اس کے لیے ملازمت کرنے کی گنجائش ہے، اور ملازمت سے حاصل ہونے والی اس کی کمائی شرعاً حلال شمار ہوگی۔
اسی طرح اگر گھر کے دیگر افراد بھی اسی کمائی سے اپنی ضروریات پوری کرتے ہوں تو اس میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں۔اور اگر گھر میں موجود کوئی عالمِ دین لڑکا اسی کمائی سے پرورش پایا ہو تو اس کے لیے امامت کرنا بھی جائز ہے۔
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"وقوله تعالى: {ولا يضربن بأرجلهن ليعلم ما يخفين من زينتهن} روى أبو الأحوص عن عبد الله قال: "هو الخلخال"، وكذلك قال مجاهد: "إنما نهيت أن تضرب برجليها ليسمع صوت الخلخال" وذلك قوله: {ليعلم ما يخفين من زينتهن} . قال أبو بكر: قد عقل من معنى اللفظ النهي عن إبداء الزينة وإظهارها لورود النص في النهي عن إسماع صوتها; إذ كان إظهار الزينة أولى بالنهي مما يعلم به الزينة، فإذا لم يجز بأخفى الوجهين لم يجز بأظهرهما; وهذا يدل على صحة القول بالقياس على المعاني التي قد علق الأحكام بها، وقد تكون تلك المعاني تارة جلية بدلالة فحوى الخطاب عليها وتارة خفية يحتاج إلى الاستدلال عليها بأصول أخر سواها. وفيه دلالة على أن المرأة منهية عن رفع صوتها بالكلام بحيث يسمع ذلك الأجانب; إذ كان صوتها أقرب إلى الفتنة من صوت خلخالها; ولذلك كره أصحابنا أذان النساء; لأنه يحتاج فيه إلى رفع الصوت والمرأة منهية عن ذلك."
(سورة النور، ج:3، ص:412، ط:دار الكتب العلمية بيروت)
عمدۃا لقاری شرح صحیح البخاری میں ہے:
"قوله: (لها أجران: أجر القرابة) أي: أجر صلة الرحم، (وأجر الصدقة) أي أجر منفعة الصدقة."
(کتاب الزکاۃ، باب الزكاة على الزوج والأيتام في الحجر، ج:9، ص:43، ط:دار الفکر بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"تجب علی الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمیة والفقیرة والغنیة دخل بها أو لم یدخل، كبیرةً کانت المرأة أو صغیرةً، یجامع مثلها، کذا في فتاویٰ قاضي خان. سواء کانت حرةً أو مکاتبةً، كذا في الجوهرة النیرة."
(كتاب الطلاق، الباب التاسع عشر فی النفقات، ج:1، ص:544، ط:دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس."
(کتاب الطلاق، باب النفقات، ج:3، ص:572، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101990
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن