
میری عمر 32 سال ہے، میری شادی کو 8 سال ہوگئے ہیں، اور میری ایک بیٹی ہے۔ میرے شوہر ملک سے باہر رہتے ہیں اور سال میں دو بار پاکستان آتے ہیں۔ گزشتہ دو بار سے انہوں نے میرے ساتھ کوئی جسمانی تعلق نہیں بنایاہے۔ میں نے انہیں کئی بار دھوکہ دیتے ہوئے پکڑاہے۔ مجھے شک ہے کہ وہ اب بھی مجھے دھوکہ دے رہے ہیں، کیوں کہ پچھلی بار جب وہ آیا تھا تو اس نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ وہ مجھ سے کوئی جسمانی تعلق نہیں بنانا چاہتا، کیوں کہ وہ مجھے پسند نہیں کرتا۔ اس صورتِ حال میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ مجھے اس کے ساتھ رہنا چاہیے یا خلع لینا چاہیے؟ نیز کیا اسلام میں جنسی کھلونے استعمال کرنے کی اجازت ہے؟ کیوں کہ پاکستان میں حلال جنسی کھلونے دستیاب ہیں؟
واضح رہے کہ شادی کے بعد میاں بیوی دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے، ا س کے بغیر پرسکون زندگی کاحصول محال ہے، شریعتِ مطہرہ میں میاں بیوی کے باہمی حقوق کو بہت اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کی بہت تاکید کی گئی ہے اور شریعتِ مطہرہ نے شوہروں کو اپنی بیویوں کے ساتھ حُسنِ سلوک و حُسنِ معاشرت کا پابند کیا ہے، جس میں اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، اس کا حق بغیر ٹال مٹول کے ادا کرنا اور اس کی جنسی خواہش کی تسکین فراہم کرنا سب داخل ہے،یہی وجہ ہے کہ فقہاءِ کرام نے صراحت کی ہے کہ جس طرح سے شوہر کی جانب سے جنسی تسکین کے مطالبہ کو پورا کرنا بیوی پر لازم ہے، بشرط یہ کہ مانع شرعی نہ ہو، بالکل اسی طرح بیوی کی جانب سے جنسی تسکین کے مطالبہ پر اسے پورا کرنا شوہر پر واجب ہے، پس اگر شوہر پورا نہ کرے تو حق تلفی کے گناہ کا مرتکب ہوگا۔ اسی لیے بلاعذر مطلقاً جماع کو ترک کرنا مصالحِ نکاح کے خلاف ہے، اور طویل مدت تک علیحدگی بھی درست نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی افواج کے لیے زیادہ سے زیادہ چار ماہ کی مدت مقرر فرمائی تھی تاکہ اس سے زائد بیوی سے دوری نہ رہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر کامذکورہ رویہ شرعاً درست نہیں ہے، تاہم ایسی صورت میں سائلہ کے لئے فوری طور پرطلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا بھی جائز نہیں ہے، بلکہ سائلہ اولاً دونوں خاندانوں کے سمجھ دار اور دیانت دار بڑوں کوبیچ میں ڈال کرافہام وتفہیم کے ساتھ اس مسئلہ کوحل کرانےکی کوشش کرے، اگر کوشش کے باوجود بھی مصالحت کی کوئی راہ نہ بن پائے، اور سائلہ کا شوہر حقوق زوجیت کی ادائیگی کے لیے تیار نہ ہو، اور سائلہ کےلیے اسی حالت میں عفت وپاک دامنی کے ساتھ رہنا مشکل ہوتو ایسی صورت میں سائلہ اپنے شوہرسے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے۔
نیزعورت کے لیے جنسی کھلونےوغیرہ استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔
قرآن مجید میں ہے:
"وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَٱبْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهٖ وَحَكَمًامِّنْ أَهْلِهَآ إِنْ يُّرِيْدَآ إِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ ٱللّٰهُ بَيْنَهُمَآۗ إِنَّ ٱللّٰهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيْرًا "(سورة النساء:35).
ترجمہ:”اور اگر تم اوپر والوں کو ان دونوں میاں بیوی میں کشاکش کا اندیشہ ہو تو تم لوگ ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتاہومرد کے خاندان سے اور ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتاہو عورت کے خاندان سے بھیجو ،اگر ان دونوں آدمیوں کو اصلاح منظور ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان میاں بی بی کے درمیان اتفاق پیدا فرمادیں گے،بے شک اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑے خبر والے ہیں ۔“(از بیان القرآن)
وفیه أیضا:
"فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ ٱللّٰهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا ٱفْتَدَتْ بِهِ."(البقرة: 229).
ترجمہ: ”سو اگر تم لوگوں کو یہ احتمال ہو کہ دونوں ضوابط خداوندی کو قائم نہ کرسکیں گے تو کوئی گناہ نہ ہوگااس(مال کے دینے)میں جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑالے۔“(از بیان القرآن)
وفیه أیضا:
"﴿ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾"[النساء: 19]
ترجمہ: ”اور ان عورتوں کے ساتھ خوبی کے ساتھ گزران کرو، اور اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم ایک شے کو ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس کے اندر کوئی بڑی منفعت رکھ دے۔“(ازبیان القرآن)
وفیه أیضا:
"{وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حافِظُونَ (5) إِلاّ عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (6) فَمَنِ اِبْتَغى وَراءَ ذلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ العادُونَ (7)}"
ترجمہ :”ایمان والے وہ لوگ ہیں جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ،لیکن اپنی بیبیوں سے یا اپنی (شرعی) لونڈیوں سے (حفاظت نہیں کرتے) کیوں کہ ان پر (اس میں) کوئی الزام نہیں ، ہاں جو اس کے علاوہ (اور جگہ شہوت رانی کا) طلب گار ہو ایسے لو گ حدِ (شرعی) سے نکلنے والے ہیں۔“ (بیان القرآن)
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی نور اللہ مرقدہ اپنی شہرۂ آفاق تفسیر معارف القرآن میں درج بالاآیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
” {فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ} ، یعنی منکوحہ بیوی یا شرعی قاعدہ سے حاصل شدہ لونڈی کے ساتھ شرعی قاعدے کے مطابق قضاءِ شہوت کے علاوہ اور کوئی بھی صورت شہوت پورا کرنے کی حلال نہیں، اس میں زنا بھی داخل ہے اور جو عورت شرعاً اس پر حرام ہے اس سے نکاح بھی حکمِ زنا ہے، اور اپنی بیوی یا لونڈی سے حیض و نفاس کی حالت میں یا غیر فطری طور پر جماع کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ یعنی کسی مرد یا لڑکے سے یا کسی جانور سے شہوت پوری کرنا بھی۔ اور جمہور کے نزدیک استمنا بالید یعنی اپنے ہاتھ سے منی خارج کرلینا بھی اس میں داخل ہے۔“
(سورۃ المؤمنون، ج:6، ص:297، ط:ط:مکتبہ معارف القرآن)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي، وإذا مات صاحبكم فدعوه». رواه الترمذي والدارمي."
(کتاب النکاح، باب عشرۃ النساء، ج:2، ص:971، رقم:3252، ط:المكتب الإسلامي بيروت)
ترجمہ:”رسول کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل (بیوی، بچوں، اقرباء اور خدمت گزاروں) کے حق میں بہترین ہو، اور میں اپنے اہل کے حق میں تم میں بہترین ہوں۔“
وفیھا أیضا:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكمل المؤمنين إيماناً أحسنهم خلقاً، وخياركم خياركم لنسائهم . رواه الترمذي."
(كتاب النكاح، باب عشرۃ النساء، ج:2، ص:973، رقم:3264، ط:المكتب الإسلامي)
ترجمہ: ”رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: مؤمنین میں سے کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جو ان میں سے بہت زیادہ خوش اخلاق ہو، اور تم میں بہتر وہ شخص ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہے۔“
بدائع الصنائع میں ہے:
"وللزوج أن يطالبها بالوطء متى شاء إلا عند اعتراض أسباب مانعة من الوطء كالحيض والنفاس والظهار والإحرام وغير ذلك، وللزوجة أن تطالب زوجها بالوطء؛ لأن حله لها حقها كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب على الزوج، ويجبر عليه في الحكم مرة واحدة والزيادة على ذلك تجب فيما بينه، وبين الله تعالى من باب حسن المعاشرة واستدامة النكاح، فلا يجب عليه في الحكم عند بعض أصحابنا، وعند بعضهم يجب عليه في الحكم."
(كتاب النكاح، فصل بيان حكم النكاح، ج:2، ص:331، ط:دار الكتب العلمية)
الانصاف فی معرفۃ الراجح من الخلاف ميں ہے:
"قوله: (فإن امتنع من الحضور: سمعت البينة، وحكم بها في إحدى الروايتين). وهو المذهب. اختاره أبو الخطاب، والشريف أبو جعفر. وقدمه في الفروع. وهو ظاهر ما جزم به في الرعاية الصغرى، والحاوي الصغير."
(باب طريق الحكم وصفته، ج:11، ص:302، ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"ويسقط حقها بمرة ويجب ديانة أحيانا۔۔۔
(قوله ويسقط حقها بمرة) قال في الفتح: واعلم أن ترك جماعها مطلقا لا يحل له، صرح أصحابنا بأن جماعها أحيانا واجب ديانة، ۔۔۔ وفي البدائع: لها أن تطالبه بالوطء لأن حله لها حقها، كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب عليه ويجبر عليه في الحكم مرة والزيادة تجب ديانة لا في الحكم عند بعض أصحابنا وعند بعضهم تجب عليه في الحكم. ۔۔۔ (قوله ولا يبلغ مدة الإيلاء) ۔۔۔ ويؤيد ذلك أن عمر - رضي الله تعالى عنه - لما سمع في الليل امرأة تقول: فوالله لولا الله تخشى عواقبه لزحزح من هذا السرير جوانبه فسأل عنها فإذا زوجها في الجهاد، فسأل بنته حفصة: كم تصبر المرأة عن الرجل: فقالت أربعة أشهر، فأمر أمراء الأجناد أن لا يتخلف المتزوج عن أهله أكثر منها، ولو لم يكن في هذه المدة زيادة مضارة بها لما شرع الله تعالى الفراق بالإيلاء فيها."
(كتاب النكاح، باب القسم بين الزوجات، ج:3، ص:202 تا 203، ط:سعيد)
وفیه أیضا:
"بقي هنا شيء وهو أن علة الإثم هل هي كون ذلك استمتاعا بالجزء كما يفيده الحديث وتقييدهم كونه بالكف ويلحق به ما لو أدخل ذكره بين فخذيه مثلا حتى أمنى، أم هي سفح الماء وتهييج الشهوة في غير محلها بغير عذر كما يفيده قوله وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة إلخ؟ لم أر من صرح بشيء من ذلك والظاهر الأخير؛ لأن فعله بيد زوجته ونحوها فيه سفح الماء لكن بالاستمتاع بجزء مباح كما لو أنزل بتفخيذ أو تبطين بخلاف ما إذا كان بكفه ونحوه وعلى هذا فلو أدخل ذكره في حائط أو نحوه حتى أمنى أو استمنى بكفه بحائل يمنع الحرارة يأثم أيضا ويدل أيضا على ما قلنا ما في الزيلعي حيث استدل على عدم حله بالكف بقوله تعالى {والذين هم لفروجهم حافظون} [المؤمنون: 5] الآية وقال فلم يبح الِاستمتاع إلا بهما أي بالزوجة والأمة اهـ فأفاد عدم حل الاِستمتاع أي قضاء الشهوة بغيرهما هذا ما ظهر لي والله سبحانه أعلم."
(کتاب الصوم، باب مایفسد الصوم و مالا یفسدہ، ج:2، ص:399، ط:سعید)
وفیه أیضا:
"(قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع."
(كتاب الطلاق، باب الخلع، ج:3، ص:441، ط:سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101796
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن