
بیوی نے عدالت سے خلع لی ہے ،اور بیوی کو معلوم ہےکہ ا س کی لی ہوئی خلع سے شرعی طور پر نکاح ختم نہیں ہوا ہے ،اور وہ عدالت میں جج کے ذریعہ شوہر سے مطالبہ کر چکی ہے کہ شوہر شرعی طور پر نکاح کو ختم کرے ،لیکن شوہر نہیں مانا ،اس کے بعد اس نے شوہر کومہر واپس کرنے کی کوشش کی اس نیت سے کہ شوہر مہر واپس لے گا تو شرعی طور پر نکاح ختم ہوجائے گا ،لیکن شوہر نے مہر واپس نہیں لیا ،اور صاف الفاظ میں کہہ بھی دیا کہ وہ مہر واپس نہیں لے گا اور معاف بھی نہیں کرے گا،کیونکہ وہ اپنی طرف سے نکاح ختم نہیں کرنا چاہتا،اس کے بعد بیوی نے شوہر کی لاعلمی میں اس کے بینک اکاؤنٹ میں پیسے جمع کروادیے ہے تو کیا اس سے بیوی کی طرف سے مہر واپس ہوجائے گا ،اور نکاح ختم ہوجائے گا؟
واضح رہے کہ شرعاً خلع منعقد ہونے کے لیے شوہر کا قبول کرنا ضروری ہوتا ہے، پس اگر شوہر خلع تسلیم نہ کرتا ہو تو شرعاً خلع واقع نہیں ہوتا، نکاح بدستور برقرار رہتا ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگربیوی نےصرف شوہر کےاکاؤنٹ میں پیسے جمع کرائے ہیں اور شوہر نے خلع قبول نہیں کیا ہے تو شرعاًخلع واقع نہیں ہوا ہے،اور نکاح بھی بدستور برقرار ہے،البتہ خلع لینے کی کوئی معقول وجہ ہے تو اولاً شوہر کو کسی طرح طلاق یا خلع پر راضی کیا جائے، اگر وہ کسی صورت ماننے کو تیار نہ ہو، اور واقعۃً شوہر کی جانب سے بیوی پر ظلم و زیادتی کی جارہی ہو یا نان ونفقہ نہیں دے رہا ہو، یا فسخ نکاح کے اسباب میں سے کوئی سبب پایا جارہا ہو تو بیوی کسی مسلمان جج کی عدالت میں فسخ نکاح کا مقدمہ دائر کرے خلع کا مقدمہ دائر نہ کرے، الغرض بیوی بذریعہ عدالت فسخ نکاح کرواسکتی ہے۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول بخلاف النوع الأول."
(كتاب الطلاق ، فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة، ج:3، ص:145، ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100586
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن