
بروز ہفتہ 17 اکتوبر کو نمازِ مغرب کے بعد میرا میری بیگم سے زبانی جھگڑا ہوا، وہ اُس وقت کچن میں کام کر رہی تھیں، انہوں نے غصے میں آ کر چیزیں پٹخیں اور باہر جانے کی کوشش کی، میں نے کہا: "اگر تم یہاں سے باہر گئیں تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔" انہوں نے دوبارہ باہر جانے کی کوشش کی، تو میں نے پھر کہا: "اگر اس وقت تم یہاں سے نکلیں تو تمہیں طلاق ہے۔" یہ جملہ میں نے تین بار کہا۔ وہ بمشکل تین سیکنڈ تک رُکیں اور پھر آرام سے کچن سے باہر نکل گئیں۔ میں ان کو گھر بھیچ چکاہوں،اب وہ گھر آنا چاہتی ہیں۔
صورت مسئولہ میں سائل نےاپنی بیوی کو جو جملہ تین مرتبہ کہا تھا کہ "اگر اس وقت تم یہاں (کچن )سے نکلیں تو تمہیں طلاق ہے۔"تو مذکورہ جگہ سے فوری نکلنے کی ساتھ تین طلاقیں معلق ہوگئی تھیں، پس مذکورہ خاتون اگر فوری طورپر کچن سے نہ نکلی ہو کچھ ٹہر کر نکلی ہو تو اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ،نکاح حسب سابق برقراررہے گا،البتہ اگر وہ فوری طورپر کچن سے چلی گئی ہو ،تو اس صورت میں تینوں معلق طلاقیں واقع ہوجائیں گی،اور نکاح ختم ہوجائےگا،بیوی شوہر (سائل) پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی ،جس کے بعد شوہر (سائل) کے لیے مطلقہ بیوی سے رجوع کرنا یا دوبار ہ نکاح کرنا حرام ہوگا،اس صورت میں مطلقہ بیوی عدت طلاق (مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور ماہواری آتی ہو، اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک کا عرصہ) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(و شرط للحنث في) قوله: (إن خرجت مثلًا) فأنت طالق أو إن ضربت عبدك فعبدي حر (لمريد الخروج) والضرب (فعله فورًا)؛ لأنّ قصده المنع عن ذلك الفعل عرفًا و مدار الأيمان عليه، و هذه تسمى يمين الفور تفرّد أبو حنيفة - رحمه الله - بإظهارها و لم يخالفه أحد.
(قوله: فورًا) سئل السغدي بماذا يقدر الفور؟ قال بساعة، واستدل بما ذكر في الجامع الصغير: أرادت أن تخرج فقال الزوج إن خرجت فعادت وجلست وخرجت بعد ساعة لا يحنث حموي عن البرجندي، و لايشترط لعدم حنثه إذا خرجت بعد ساعة تغير تلك الهيئة الحاصلة مع إرادة الخروج، يشير إليه قول الفتح تهيأت للخروج، فحلف لاتخرج فإذا جلست ساعة ثم خرجت لايحنث؛ لأن قصده منعها من الخروج الذي تهيأت له فكأنه قال: إن خرجت الساعة، و هذا إذا لم يكن له نية فإن نوى شيئا عمل به شرنبلالية."
(کتاب الأیمان، مطلب في يمين الفور، ج: 3، ص: 762، ط: سعید)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا."
(کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، 420/1، ط:دار الفکر)
الاختيار لتعليل المختار میں ہے :
"وألفاظ الشرط: " إن " و" إذا " و" إذا ما " و" متى " و" متى ما " و" كل " و" كلما "، فإذا علق الطلاق بشرط وقع عقيبه وانحلت اليمين وانتهت إلا في " كلما "، ولا يصح التعليق إلا أن يكون الحالف مالكا كقوله لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."
(كتاب الطلاق، تعليق الطلاق، ج:3،ص: 140، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704102170
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن