بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر و سسرالی حقوق اور دین دار گھرانے کے شرعی معیارات


سوال

1۔ مجھے یہ جاننا ہے کہ کیا خاوند یہ بات کہہ سکتا ہے کہ میرے لیے چائے بناؤ؟ اسی طرح کوئی کام یا روایتی امور، جو گھریلو خواتین کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں، اُن کو نبھانے کے لیے خاوند کچھ کہہ سکتا ہے یا حکم دے سکتا ہے؟ کیونکہ میری بھی شادی ہوگی اور والدہ کہا کرتی ہیں کہ گھرداری سیکھو تاکہ سسرال میں اور شوہر کی ذمہ داری سنبھالنے میں آسانی ہو۔

میں بہت زیادہ کنفیوژن کا شکار ہوجاتی ہوں اور پھر خیالات آتے ہیں کہ جب مجھ پر واجب نہیں تو میں کیوں کروں؟ کیوں بات مانوں؟ شوہر ایسا کیوں کہتا ہے؟ ساس کا لحاظ کیوں کروں؟ عجیب ذہنی الجھنوں اور خیالات کا شکار ہوجاتی ہوں، جبکہ گھر میں سب روایات کے مطابق چلتے ہیں۔

یہ معاملات میں عدالتی یا قضا کے نقطۂ نظر سے نہیں پوچھ رہی ہوں۔ معلوم ہے کہ اس پر مقدمہ نہیں بنتا اور نہ ہی کوئی کرتا ہے۔ صرف دینی، روایتی اور گھریلو معاملات اور خاوند کے مقام کے تناظر میں پوچھ رہی ہوں۔ مجھے موٹیویشن دیں کہ میں خوشی سے ذمہ داری سنبھال سکوں، نہ کہ غصے، الجھن یا بیزاری میں۔ میرا خود بھی روایتی اور دینی گھرانے سے تعلق ہے، اگرچہ ہم کٹر مولوی یا بہت زیادہ مذہبی نہیں، مگر زیادہ تر دینداری اور دین سے رہنمائی لیتے رہتے ہیں۔

2۔ دوسرا یہ بھی پوچھنا تھا کہ اگر کسی گھرانے میں مکمل، کٹر یا سخت مذہبی ماحول نہ بھی ہو، تو کیا وہ بھی دیندار گھرانہ ہو سکتا ہے؟ مثلاً: کوئی گھرانہ حتی الامکان ارکانِ اسلام پر عمل کرتا ہو، اور فحش، شراب نوشی وغیرہ کے سخت خلاف ہو اور نامحرم سے دوستیاں نہ رکھتا ہو، اور غیرمحرم رشتہ داروں سے بھی احتیاط کرتا ہو۔ آزادی نہ ہو، اور اس گھر کی خواتین باہر جاتے ہوئے مکمل پردہ کرتی ہوں، لیکن گھر اور خاندان میں اس طرح کا سخت پردہ نہ ہو پاتا ہو۔ اس کے باوجود احتیاط کرتے ہوں اور مادر پدر آزاد نہ ہوں، اور ذریعۂ کمائی حلال ہو اور مرد کفالت کرتے ہوں۔ مطلب پاکستان کا ایک روایتی گھرانہ ہے جس میں اپنے اقدار اور روایات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اگر مولوی یا کٹر مذہبی گھرانہ نہ بھی ہو، تو کیا ایسے لوگ “دیندار” کہلائے جا سکتے ہیں؟ جو باتیں اوپر بیان کی گئی ہیں، اس بنا پر کیا وہ دینداری کے زمرے میں آتے ہیں؟ کیونکہ آج کل کچھ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بہت جج کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو بھی دینداری کی کیٹیگری سے نکال دیتے ہیں، اور ہم جیسے لوگوں کو مایوس، بیزار اور حوصلہ شکن کر دیتے ہیں۔

میں یہ سوالات مکالمے کے انداز میں پوچھ رہی ہوں، جیسے کوئی چھوٹا اپنے بڑے سے پوچھتا ہے۔ مجھے اس بارے میں کافی کنفیوژن ہے۔ اس سلسلے میں رہنمائی کیجئے۔

جواب

1۔ واضح رہے کہ میاں بیوی کا باہمی رشتہ، اسی طرح سسرالی رشتہ قواعد و ضوابط کے بجائے حسنِ اخلاق، حسنِ معاشرت، باہمی ہمدردی اور جذبۂ ایثار ہی سے چل سکتا ہے۔ اور جب ان بنیادوں پر اس رشتے کو نبھایا جائے تو یہ کامیاب و مستحکم رہتا ہے۔

نیز شریعتِ مطہرہ نے میاں بیوی کے حقوق میں توازن رکھا ہے، اور حسنِ معاشرت کا حکم دے کر یہ واضح کیا ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ اخلاق، ایثار اور ہمدردی سے قائم و دائم رہتا ہے۔ ضابطہ کے اعتبار سے جہاں بہت سی ذمہ داریاں بیوی پر عائد نہیں ہوتیں، وہیں شوہر بھی بہت سے معاملات میں بری الذمہ ہوتا ہے؛ لیکن حسنِ معاشرت کے باب میں دیانتاً اور اخلاقاً یہ امور دونوں پر ایک دوسرے کے لیے لازم ہوتے ہیں۔

چنانچہ شریعت نے جائز امور میں بیوی کو شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیا ہے، اور اگر شوہر کسی خدمت کا کہے تو اس صورت میں بیوی کے لیے اس کی تعمیل کو واجب قرار دیا ہے۔ شوہرکی خدمت،تابعداری اوراطاعت کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار ارشادات موجودہیں۔ ایک حدیث میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌لو ‌كنت ‌آمر ‌أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها». رواه الترمذي."

(مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، باب عشرة النساء، الفصل الثاني، رقم الحديث:3255، ج:2، ص:972، ط:المكتب الإسلامي بيروت)

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں کسی کویہ حکم کرتا کہ وہ (اللہ کے سوا) کسی کو سجدہ کرے، تو میں ضرور عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔“

صاحبِ ”مظاہرِحق“ اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں:

”مطلب یہ ہے کہ ربِ معبود کے علاوہ اور کسی کو سجدہ کرنا درست نہیں ہے۔ اگرکسی غیراللہ کو سجدہ کرنا درست ہوتا، تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے؛ کیوں کہ بیوی پر اس کے خاوند کے بہت زیادہ حقوق ہیں، جن کی ادائیگی شکر سے وہ عاجز ہے، گویا اس ارشادِگرامی میں اس بات کی اہمیت وتاکید کو بیان کیا گیا ہے کہ بیوی پر اپنے شوہر کی اطاعت وفرمانبرداری واجب ہے۔“

نیزشوہر کوبھی اپنے اہل وعیال کے  ساتھ حُسنِ سلوک کی تاکیدکی گئی ہے۔ چناں چہ ایک روایت میں ہے:

"وعنها (أي عائشة) قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي وإذا مات صاحبكم فدعوه». رواه الترمذي والدارمي."

(مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، باب عشرة النساء، الفصل الثاني، رقم الحديث:3252، ج:2، ص:971، ط:المكتب الإسلامي بيروت)

ترجمہ: ”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب میں سب سے بہتر ہوں۔“

اسی طرح اخلاق اور حُسنِ معاشرت کا تقاضا، اور بیوی کی سعادت و نیک بختی اسی میں ہے کہ وہ شوہر کے والدین کی ہر طرح خدمت بجا لائے۔ جس طرح وہ اپنے والدین کی راحت کا خیال رکھتی ہے، اسی طرح شوہر کے والدین کی خدمت کرنا اور انہیں راحت پہنچانا بھی بیوی کی اخلاقی ذمہ داری میں شامل ہے۔ اور یاد رہے کہ شوہر کے والدین کی خدمت درحقیقت شوہر ہی کی خدمت ہے۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ اپنی کتاب ”بہشتی زیور“ میں خواتین کو خطاب کرکے تحریر فرماتے ہیں:

”جب  تک  ساس خسر  زندہ  رہیں، ان کی خدمت کو، ان کی تابع داری کو فرض جانو، اور اسی میں اپنی عزت سمجھو، اور ساس نندوں سے الگ ہوکر رہنے کی ہرگز فکر نہ کرو۔ ساس نندوں سے بگاڑ ہوجانے کی یہی جڑ ہے۔ خود سوچو کہ ماں باپ نے اسے پالا پوسا اور بڑھاپے میں اس آسرے پر اس کی شادی بیاہ کیا کہ ہم کو آرام ملے، اور جب بہو آئی، ڈولے سے اترتے ہی یہ فکر کرنے لگی کہ میاں آج ہی ماں باپ کو چھوڑ دیں۔۔۔ جو کام ساس نندیں کرتی ہیں تو اس کے کرنے سے عار نہ کرو۔ تم خود بے کہے ان سے لے لو اور کردو۔ اس سے ان کے دلوں میں تمہاری محبت پیدا ہوجائے گی۔“

(حصّہ چہارم، نکاح کا بیان، باب:31، ص:48/47، ط:تاج کمپنی کراچی)

غرض یہ کہ شریعت نے شوہر اور ساس سسر کے حقوق ادا کرنے اور ان کی خدمت بجا لانے کا حکم دیا ہے، اور اسی میں بیوی/بہو کی سعادت و نیک بختی مضمر رکھی ہے۔ البتہ جہاں شوہر اور ساس سسر کی خدمت کی تاکید ہے، وہیں اس میں اعتدال بھی ضروری ہے، نہ یہ درست ہے کہ تمام ذمہ داریاں بیوی پر ڈال دی جائیں، اور نہ یہ مناسب ہے کہ بیوی اپنے خدمت کے محتاج شوہر یا ساس سسر کی خدمت سے بالکل دامن کش ہو جائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے نکاح کے بعد کام کی تقسیم اس طرح فرمائی تھی کہ باہر کے کام اور ذمہ داریاں حضرت علی رضی اللہ عنہ انجام دیں گے، جبکہ گھریلو کام کاج اور گھر کی ذمہ داریاں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سپرد ہوں گی۔ جب سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی بھی اس ذمہ داری سے مستثنیٰ نہ تھیں، تو پھر دوسری خواتین کے لیے اس سے گنجائش کیسے ہوسکتی ہے؟

لہٰذا سائلہ کو چاہیے کہ قبل از وقت ازدواجی ذمہ داریوں، شوہر اور ساس سسر کے حقوق و خدمت کے حوالے سے پریشان نہ ہو، اور اس بارے میں زیادہ نہ سوچے، اور منفی و موہوم خیالات کو  اپنے دل و دماغ پر حاوی نہ ہونے دے۔ بلکہ اس کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جب بھی اسے اس رشتے سے وابستہ فرمائیں گے، تو وہ خوش دلی کے ساتھ شوہر اور ساس و سسر کی فرمانبردار اور مطیع رہے گی، ہمہ تن ان کی خدمت اور راحت رسانی میں مشغول رہے گی، اور ہمیشہ ان کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ اور اللہ تعالیٰ سے اس کی توفیق و ہمت کی دعا کرتی رہے۔

2۔ واضح رہے  کہ کسی بھی گھرانے کے دیندار کہلانے کے لیے اس گھرانہ کا ”مولوی گھرانہ یا کٹر مذہبی گھرانہ“ ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ گھرانے کے تمام یا اکثر افراد بالخصوص گھر کا سربراہ اگر صوم و صلوٰۃ کا پابند ہوں، اور دیگر احکامِ اسلام پر عمل پیراں ہوں، اور منہیات یعنی شریعت کے منع کردہ اعمال سے بچتے ہوں، ذریعہ آمدن حلال ہو، اور گھر کا ماحول دینی و اخلاقی ہو، افرادِ خانہ بقدرِ ضرورت دینی تعلیم سے آگاہ ہوں، اور گھر کی عورتیں بھی شریعت و  احکامِ شریعت کی پابندی کرتی ہوں، اور غیر محارم سے پردے کا اہتمام کرتی ہوں۔

غرض جس گھرانے میں اسلامی تعلیمات، اخلاق اور دینی اقدار کی روشنی میں زندگی گزاری جاتی ہو، یعنی افرادِ خانہ  زندگی کے تمام شعبوں میں اللہ تعالیٰ کے احکام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق عمل کرتے ہوں، فرائض کا اہتمام کرتے ہوں، کبائر سے بچتے ہو، اور اخلاص کے ساتھ دین پر قائم ہوں، تو ایسا گھرانہ شرعاً و عرفاً ”شریف و دیندار گھرانہ“ کہلاتا ہے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101517

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں