
میاں بیوی میں جھگڑا ہوا، اور بیوی چاہتی ہے کہ میں اپنے شوہر سے الگ رہوں، تو کیا ایسی صورت میں بیوی نفقہ کی حق دار ہوگی یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں بیوی نفقہ کی حق دار اس وقت ہوتی ہے، جب وہ اپنے آپ کو شوہر کے سپرد کرے ، اور شوہر کے پاس رہے، لیکن اگر بیوی بغیر شرعی وجہ کے شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار کرے تو ایسی صورت میں وہ نفقہ کی حق دار نہیں ہوتی، شوہر پر اس کا نفقہ لازم نہیں، تاہم اگر بیوی کے الگ رہنے کی صورت میں شوہر کی اجازت و رضامندی شامل ہو تو شوہر پر بیوی کا نفقہ لازم ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه بخلاف ما لو امتنعت عن التمكن في بيت الزوج لأن الاحتباس قائم حتى، ولو كان المنزل ملكها فمنعته من الدخول عليها لا نفقة لها إلا أن تكون سألته أن يحولها إلى منزله أو يكتري لها منزلا، وإذا تركت النشوز فلها النفقة".
(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الأول في نفقة الزوجة، ج:1، ص:545، ط: دار الفكر)
الإختیار لتعلیل المختار میں ہے:
"قال: (فإن نشزت المرأة فلا نفقة لها) لما روي: «أن فاطمة بنت قيس نشزت على أحمائها فنقلها عليه الصلاة والسلام إلى بيت ابن أم مكتوم ولم يجعل لها نفقة ولا سكنى» ، ولأن الموجب للنفقة الاحتباس وقد زال، بخلاف ما إذا امتنعت من التمكين لأنه لا يفوت الاحتباس وهو يقدر عليه كرها، فإن عادت إلى منزله عادت النفقة لعود الاحتباس."
(كتاب الطلاق، نفقة الزوجة، ج:4، ص:5، ط: العلمية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704100329
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن