بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر پر تہمت لگانا، اس کے حقوق میں کوتاہی کرنا سخت گناہ ہے


سوال

میں دو سال سے شدید بیمار ہوں، اب کمانے کے  قابل نہیں رہا، گھر کا خرچہ میرے بہن بھائی مل کے برداشت کرتے ہیں، میری بیوی بہت بد اخلاق ہے،  19سال شادی کو ہوۓ ہیں، 3 بچے ہیں، بیوی دیوبندی عالمہ ہے، بے نمازی ہے، دن بھر مجھے برا کہتی ہے، بچوں کے سامنے میرے اوپر تہمت لگاتی ہے، اکثرحق زوجیت ادا نہیں کرتی، میں نے کچھ علماء سے سنا ہے کہ :”نافرمان بیوی کو جب تک شوہر طلاق نہیں دیتا تو اللہ تعالی اس مرد سے راضی نہیں ہوتا“،  میں اس لیے گزارا کر رہا ہوں کہ بچوں کے سر پر ماں کا سایہ رہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں بیوی کا مذکورہ  رویہ اور طرز عمل  شرعا جائز نہیں ہے، بیوی پر جائز امور میں شوہر کی اطاعت اور فرمانبرادی  لازم ہے، میاں بیوی کا رشتہ باہمی اتفاق اور تعاون سے چلتا ہے، لہذا دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کرتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے، ایک حدیث مبارک میں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس عورت نے  (اپنی پاکی کے  دنوں میں پابندی کے ساتھ) پانچوں وقت کی نماز پڑھی،  رمضان کے روزے  (ادا اور قضا)  رکھے،  اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی  اور اپنے خاوند  کی فرماں برداری کی  تو (اس عورت کے لیے یہ بشارت ہےکہ) وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے“۔ لہذا  مذکورہ عورت کو چاہیے کہ وہ   جائز امور میں شوہر کی اطاعت کرے، شوہر کی نافرمانی کرنا اور اس کے ساتھ بدتمیزی، شوہر پر تہمت لگانا اور بد اخلاقی کا مظاہرہ  کرنا  سخت گناہ ہے، نیز   بیوی کو عالمہ ہونے کی صورت میں شوہر کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام اور زیادہ کرنا چاہیے۔

باقی رہی یہ بات کہ” نافرمان بیوی کو جب تک شوہر طلاق نہیں دیتا تو اللہ تعالی اس مرد سے راضی نہیں ہوتا“ تو اس طرح کی بات کسی روایت میں نہیں ہے۔

         حدیث مبارک میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح»".(مشکاۃ المصابیح، 2/280،  باب عشرۃ النساء، ط: قدیمی)

ترجمہ: رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی مرد اپنی عورت کو ہم بستر ہونے کے لیے بلائے اور وہ انکار کردے، اور پھر شوہر (اس انکار کی وجہ سے) رات بھر غصہ کی حالت میں رہے  تو فرشتہ اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے  رہتے ہیں۔ (مظاہر حق، 3/358، ط؛  دارالاشاعت)

ایک اور حدیث مبارک میں ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المرأة إذا صلت خمسها وصامت شهرها وأحصنت فرجها وأطاعت بعلها فلتدخل من أي  أبواب الجنة شاءت» . رواه أبو نعيم في الحلية".(مشکاۃ المصابیح، 2/281،  باب عشرۃ النساء، ط: قدیمی)

ترجمہ:  حضرت انس  رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جس عورت نے  (اپنی پاکی کے  دنوں میں پابندی کے ساتھ) پانچوں وقت کی نماز پڑھی،  رمضان کے  (ادا اور قضا) رکھے،  اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی  اور اپنے خاوند  کی فرماں برداری کی  تو (اس عورت کے لیے یہ بشارت ہےکہ) وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔(مظاہر حق، 3/366، ط: دارالاشاعت)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144703100914

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں