بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر نامرد ہو تو بیوی کیا کرے؟


سوال

میری بیٹی کی شادی دسمبر 2024 کو ہوئی تھی، رخصتی کے بعد پتہ چلا کہ لڑکا ناکارہ ہے، عاجز ہے، ازدواجی زندگی شروع نہیں کر سکتا۔ لڑکی چھے ماہ تک ساتھ رہی مگر لڑکا جنسی طور پر ناکارہ ہے۔ اب لڑکی کا ساتھ رہنا صحیح ہے یا علیحدگی کر لی جائے؟

 
 

جواب

واضح رہے کہ اگر   شوہر واقعۃ  نامرد ہے اور  ازدواجی حقوق ادا کرنے سے بالکل قاصر ہے ،اور بیوی بھی اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو اولاًباہمی رضامندی سے  طلاق یا خلع لےلے، ورنہ ایسے شخص کی  بیوی کو عدالت کے ذریعہ اپنا نکاح فسخ کرنے کا اختیار ہوتا ہے بشرطیکہ نکاح سے پہلے اسے اپنے شوہر کے عنین (نامرد)ہونے کا علم نہ ہو، اور  نکاح کے بعد شوہر  کے بارے میں معلوم ہونے پر اس نے اس شوہر کے ساتھ رہنے پر رضامندی کا اظہار بھی نہ کیا ہو، اور شوہر کم از کم ایک مرتبہ بھی بیوی سے ہمبستری پر قادر نہیں ہوا ہو۔ 

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی بیٹی کا اپنے شوہر کے ساتھ رہنا بھی جائز ہے تاہم اگر سائل کی بیٹی  اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہو تو پھر اس سے طلاق یا خلع لے لے، اگر شوہر طلاق یا خلع دینے  پر راضی نہ ہو تو پھر عدالت سے اپنا نکاح مندرجہ ذیل  طریقہ کے مطابق فسخ کروادے۔

  عنین(نامرد) سے آزادی حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مذکورہ عورت مسلمان جج یا قاضی کی عدالت میں دعویٰ دائر کرے کہ میرا شوہر عنین یعنی نا مردہے اور آج تک اس نے ایک مرتبہ بھی میرا حق ادا نہیں کیا، اس لیے میں اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی، مجھے شرعی اصولوں کے مطابق اس کے نکاح سے علیحدہ کر دیا جائے، قاضی شوہر سے اس بات کی تحقیق کرے اور وہ خود قبول کرے کہ وہ آج تک اس عورت سے وطی پر قدرت نہیں پا سکا تو اسے ایک سال علاج کی مہلت دے گا۔
اور ایک سال علاج کے بعد بھی افاقہ نہ ہو اور ایک مرتبہ بھی وطی پر قادر نہ ہو تو عورت دوبارہ قاضی کی عدالت میں دعویٰ دائر کرے اور اس کے ساتھ رہنے پر رضامند نہ ہو تو قاضی شوہر سے اس بات کی تحقیق کرے ،مرد عورت کی بات کی تصدیق  کرتا ہو تو قاضی مرد کو کہے کہ اسے طلاق دے کر علیحدہ کر دے، اگر وہ طلاق دے تو بہتر،  ورنہ قاضی عورت کو اس نکاح سے علیحدہ ہونے کا اختیار دے ، اور عورت اس اختیار کو قبول کر کے اس نکاح سے علیحدہ ہو جائے، اس کے بعد عورت عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے:

"عن أبيه، عن عبد الله، قال: "يؤجل العنين سنة، فإن وصل إليها وإلا فرق بينهما، ولها الصداق."

(المعجم الكبير للطبراني، ج: 9، ص: 343، ط: مكتبة ابن تيمية)

المحیط البرہانی میں ہے:

"إذا وجدت المرأة زوجها ‌عنيناً، ‌فلها ‌الخيار إن شاءت أقامت معه كذلك، وإن شاءت خاصمته عند القاضي وطلبت الفرقة، فإن خاصمته فالقاضي يؤجله سنة وتعتبر السنة عند أكثر المشايخ بالأيام."

(كتاب النكاح، الفصل الثالث و العشرون في العنين و المجبوب و الخصي، ج: 3، ص: 173، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا رفعت المرأة زوجها إلى القاضي وادعت أنه عنين وطلبت الفرقة فإن القاضي يسأله هل وصل إليها أو لم يصل فإن أقر أنه لم يصل أجله سنة سواء كانت المرأة بكرا أم ثيبا، وإن أنكر وادعى الوصول إليها فإن كانت المرأة ثيبا فالقول قوله مع يمينه أنه وصل إليها كذا في البدائع.

فإن حلف بطل حقها، وإن نكل يؤجل سنة كذا في الكافي، وإن قالت: أنا بكر نظر إليها النساء وامرأة تجزئ والاثنتان أحوط وأوثق فإن قلن: إنها ثيب فالقول قول الزوج مع يمينه كذا في السراج الوهاج."

"جاءت المرأة إلى القاضي بعد مضي الأجل وادعت أنه لم يصل إليها وادعى الزوج الوصول، فإن كانت ثيبا في الأصل كان القول قوله مع اليمين، فإن حلف بطل حقها، وإن نكل خيرها القاضي."

(کتاب الطلاق، الباب الثاني عشر في العنین، ج:1، ص:522، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102026

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں