
میرا نام صنوبر ہے، اور میرے شوہر کا نام امجد ہے۔ میری شادی کو تین سال ہو گئے ہیں۔ میرے شوہر نے بہت تنگ کیا ہوا ہے۔ خرچہ نہیں دیتے، کھانے اور پینے کو بھی نہیں دیتے۔ اگر بولو تو مارنے کو آتے ہیں۔ ایک بیٹی ہے تین ماہ کی اس کا بھی کوئی خرچہ نہیں دیتے۔ میری ساس اور میرے بھائی خرچہ اٹھاتے ہیں۔ کام پر روز جاتے ہیں۔ اووَر ٹائم بھی کام کرتے ہیں، اور نائٹ شفٹ بھی کام کرتے ہیں۔ ان پر کسی قسم کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ گیس بجلی کے بل سے لے کر گھر کی دوسری تمام ذمہ داری میری ساس خود کرتی ہے۔ موبائل چیک کرنے پر پتہ چلا کے لڑکیوں کے چکر میں ہے۔ ان سب باتوں سے پریشان ہو کر میرے بھائی نے بولا کہ گھر بیٹھ جاؤ۔ تو میری ساس مجھے جانے نہیں دیتی ہیں۔ کہتی ہیں کہ میرے خون سے میری پوتی دور مت کرو۔ میری ساس کی عمر ہو گئی ہے۔ وہ گھر گھر کام کرتی ہیں۔ اپنی بیٹیوں کے پورا خرچہ اٹھاتی ہیں، اور وہ ہمارا کب تک کریں گی۔ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور میرے والد کماتے نہیں ہیں۔ میری شادی بھی بھائی نے کرائی ہے۔ تین سال سے یہی چل رہا ہے۔ ایک دو مہینہ بہن کے پاس، کبھی بھائی کے پاس، اور شوہر ان کے گھر چھوڑ دیتے ہیں، اور واپس لینے بھی نہیں آتے۔ اب ہم کیا کریں؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ اگر اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، تو شوہر سے طلاق لے کر یا خلع کے ذریعہ اپنے آپ کو اس ازدواجی رشتہ سے الگ کر لے۔ لیکن اگر پوری کوشش کے باوجود کوئی صورت نہ بن سکے تو سخت مجبوری کی حالت میں سائلہ کو تفریق کا حق مل سکتا ہے اور سخت مجبوری کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ سائلہ کے خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو سکے یعنی نہ تو کوئی شخص سائلہ کے خرچ کا بندوبست کرتا ہو اور نہ خود سائلہ عزت و آبرو کی حفاظت کے ساتھ کمانے کی قدرت رکھتی ہو، اور مجبوری کی دوسری صورت یہ ہے کہ اگرچہ سہولت یا دقّت کے ساتھ خرچ کا انتظام ہوسکتا ہے لیکن شوہر سے علیٰحدہ رہنے میں گناہ میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہو۔
تفریق کی صورت یہ ہے کہ سائلہ کسی مسلمان جج کی عدالت میں شوہر کے نان نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کا دعوی دائر کرےاور اپنے دعوی کو شرعی گواہوں سے ثابت بھی کرے، اس کے بعد عدالت اپنےطور پر پوری تحقیق کرے، اگر دعویٰ صحیح ثابت ہوجائے تو عدالت شوہر کو طلب کرکے نان نفقہ دینے کا کہے، اگر وہ اس پر آمادہ ہوجائے تو ٹھیک ورنہ میاں بیوی کا نکاح فسخ کردے، فسخ نکاح کے بعد سائلہ عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
الفتاوي الهندية میں ہے:
"الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع كذا في فتح القدير...(وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين. وتصح نية الثلاث فيه...إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية."
(کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع، الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، ج: 1، ص: 519، ط: دار الکتب العلمیۃ)
حاشیہ ابن عابدین میں ہے:
"وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر... "
(کتاب الطلاق، حكم إيقاع الطلاق، ج: 9،ص: 93، ط: دار الثقافۃ والتراث، دمشق سوریۃ)
الحیلۃ الناجزۃ میں ہے:
"حکم زوجہ متعنت (فی النفقۃ)۔۔۔زوجہ متعنت کو اول تو لازم ہے کہ کسی طرح خاوند سے خلع وغیرہ کرلے لیکن اگر باوجود سعی بلیغ کے کوئی صورت نہ بن سکے تو سخت مجبوری کی حالت میں مذہب مالکیہ پر عمل کرنے کی گنجائش ہے کیوں کہ ان کے نزدیک زوجہ متعنت کو تفریق کا حق مل سکتا ہے اور اور سخت مجبوری کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ عورت کا خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو سکے یعنی نہ تو کوئی شخص عورت کے خرچ کا بندوبست کرتا ہو اور نہ خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسبِ معاش پر قدرت رکھتی ہو، اور دوسری صورت مجبوری کی یہ ہے کہ اگرچہ بسہولت یا بدقّت خرچ کا انتظام ہو سکتا ہے لیکن شوہر سے علیٰحدہ رہنے میں ابتلاء معصیت کا قوی اندیشہ ہو۔ تفریق کی صورت اور اس کے شرائط: اور صورت تفریق کی یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ قاضی اسلام یا مسلمان حاکم اور ان کے نہ ہونے کی صورت میں جماعت المسلمین کے سامنے پیش کرے اور جس کے پاس پیش ہو وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ سے پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو کہ باوجود وسعت کے خرچ نہیں دیتا تو اس کے خاوند سے کہا جائے کہ اپنی عورت کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو، ورنہ ہم تفریق کر دیں گے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل نہ کرے تو قاضی یا شرعاً جو اس کے قائم مقام ہو طلاق واقع کر دے اس میں کسی مدت کے انتظار ومہلت کی باتفاق مالکیہ ضرورت نہیں۔"
(حکم زوجہ متعنت، ص: 72-73، ط: دار الاشاعت، کراچی پاکستان)
وفيه أيضاً:
"وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير مانصّه: إن منعها نفقة الحال فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه.قال محشيه، قوله: وإلا طلق، أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم، إلي أن قال: وإن تطوع بالنفقة قريب أو أجنبي فقال ابن القاسم لها أن تفارق، لأن الفراق قد وجب لها، وقال ابن عبدالرحمن: لا مقال لها، لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتفي وهو الذي تقضيه المدونة كما قال ابن المناصف انظر الحطاب، انتهي."
(مجموعة الفتاوي المالكية، الرواية الثالثة والعشرون، ص: 150، ط: دار الاشاعت، کراچی پاکستان)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144701101218
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن