بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے انتقال کے بعد بیوی دوسری جگہ شادی کرلے تب بھی وہ شرعاً وارث ہے


سوال

1۔ میری بیٹی کے شوہر کا انتقال ہوا، اس کے شوہر نے اسے گفٹ میں سونا دیا تھا اور وہ مالکانہ طور پر دیا تھا، اب کیا اس سونے میں شوہر کے ورثاء کا کچھ حق ہے؟

2۔ بیٹی اگر اب عدت کے بعد کسی دوسری جگہ شادی کرلے تو کیا اس صورت میں اسے اپنے شوہر کی جائیداد میں حق ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے داماد نے سائل کی بیٹی کو مذکورہ سونا مالکانہ طور پر دے دیا تھا تو یہ سونا سائل کی بیٹی کی ملکیت شمار ہوگا، اس میں شوہر کے ورثاء کا کوئی حق وحصہ نہیں ہے۔

2۔ جب سائل کی بیٹی شوہر کے انتقال کے وقت اس کے نکاح میں تھی تو عدت کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح بھی کرلے تو وہ اپنے (فوت شدہ) شوہر کی شرعاً وارث ہے، اس کو شوہر کی جائیداد میں سے شرعی حصہ ملے گا۔   

فتاوی شامی میں ہے:

"شرط الإرث وجود الوارث حيا عند ‌موت ‌المورث."

(كتاب الفرائض، ج:6، ص:769، ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويستحق الإرث برحم ونكاح)."

(کتاب الفرائض، ج:6، ص:762، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100305

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں