
کیا میں اپنا گھر اپنی بیوی کے نام پر دے سکتا ہوں؟ اور گھر دینے کے بعد کیا میں بیوی کی اجازت کے ساتھ اس گھر کا کرایہ لے سکتا ہوں؟ میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں، اس عمل کو شرعی طور پر کیا کہا جاتا ہے؟ اس کے علاوہ میرے پاس ایک اور گھر اور ایک دکان بھی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کا مقصد اپنا گھر اپنی بیوی کو مکمل طور پر بطور مالکانہ دینا مقصود ہو تو سائل اس گھر سے باہر نکل کر مکمل قبضہ وتصرف کے ساتھ اپنی بیوی کو گفٹ کر کے دے دے،اس سے اپنا تصرف ختم کرے،اس کے بعد اگر بیوی اپنی خوش دلی سے اس گھر کا کرایہ سائل کو دیتی ہے تو ایسا کرنا درست ہوگا،لیکن سائل زبردستی کرایہ کا دعوٰی نہیں کرسکتا، اس کو شرعی اعتبار سے ہبہ(گفٹ) کہتے ہے۔
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"(لا يحل مال امرئ ) أي: مسلم أو ذمي ( إلا بطيب نفس ) أي: بأمر أو رضا منه. رواه البيهقي."
(كتاب البيوع، باب الغصب والعارية، ج: 5، ص: 1974، ط: دار الفكر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط. "
(کتاب الھبة، الباب الثاني، ج: 4، ص: 377، ط: دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل."
(كتاب الهبة، ج: 5، ص: 690، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100476
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن