بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کو بتائے بغیر گھر میں رہ کر کاروبار کرنا


سوال

اگر شوہر بہت امیر ہو، لیکن بیوی پر خرچ کرنے  میں انتہائی کنجوس ہواور خود پر اچھا خاصہ خرچ کرتا ہو،گھر کے کھانے پر بھی خرچ کرے ، لیکن بیوی کے لیے بہت کم خرچ دے جس میں اس کی کوئی چیز نہ آتی ہو، اور مانگنے پر جھگڑا ہو، تو کیا بیوی چھپ کر آن لائن چیزیں بیچ سکتی ہے؟ یا چھپ کر کپڑے سی سکتی ہے جبکہ شوہر کو کمائی کا علم نہ ہو۔

جواب

واضح رہے کہ شوہر پر شرعاً بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے، اور نان و نفقہ سے مراد بقدرِ  کفایت  کھانے پینے، کپڑے، اور مکان کا انتظام کرنا ہے، نان و نفقہ کے علاوہ الگ سے جیب خرچ شوہر پر لازم نہیں ہے، البتہ مستحب ہے کہ نان و نفقہ کے علاوہ بھی الگ سے بیوی کو جیب خرچ دیا جائے، جس کو وہ اپنی مرضی سے جائز کام کےلئے  خرچ کر سکے،اور  اگر شوہر  بیوی کے  نان نفقہ (بقدرِ کفایت کھانے پینے، کپڑے، اور مکان) کا انتظام کرتا ہو تو شوہر پر شرعاً بیوی کو الگ سے جیب خرچ دینا لازم تو نہیں ہے، البتہ  رہائش ،کپڑے اور کھانے کےعلاوہ بھی بیوی کی ضروریات ہوتی ہیں،  اس لیے اچھا یہی ہے کہ  اس کو  الگ سے ماہوار   کچھ جیب خرچ بھی دیا جائے، جس کو بیوی اپنی مرضی سے اپنی ضروریات میں استعمال کر سکتی ہو ،بیوی اس کو اپنے نان و نفقہ کا حصہ سمجھ کر مطالبہ کرنے کی مجاز نہیں ، اور نہ دینے پر  شرعاً شوہر کو ملامت نہیں کیا جا سکتا، نیز   حدودِ شرع میں رہ کر خواتین کا کاروبار کرنا شرعًا ممنوع نہیں ہے،لہذا   صورتِ مسئولہ میں  سائلہ کے لیے شوہر کے بتائے بغیر  گھر پررہ کر جائز  ذریعہ معاش اختیار کرنا  ، مثلاً :   آن لائن  جائز کاروبار کرنا،  کپڑے سینا  جائز ہے ،لیکن بہتر یہ ہے کہ مصلحت سے     شوہر کے علم میں لے آئے۔   

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس."

(کتاب الطلاق، باب النفقات، ج: 3 ص: 572 ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"تجب علی الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمیة والفقیرة والغنیة دخل بها أو لم یدخل، كبیرةً کانت المرأة أو صغیرةً، یجامع مثلها، کذا في فتاویٰ قاضي خان. سواء کانت حرةً أو مکاتبةً، كذا في الجوهرة النیرة."

(  كتاب الطلاق، الباب التاسع عشر فی النفقات، ج:1 ص:544 ط: رشیدیه)

كتاب الأصل میں ہے: 

    " أن ‌الأصل ‌في ‌الأشياء الإباحة. وقيل بأن أكثر الحنفية على هذا الرأي."

(الكتاب الأصل،الاجتهاد، ص:284، ط: دار ابن حزم، بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144603102626

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں