
میں اپنے شوہر کو عمر میں بڑا ہونے کی وجہ سے نام لے کر نہیں بلاتی، بلکہ بچوں کی طرح ’’ابا‘‘ یا ’’چاچو‘‘ کہہ دیتی ہوں۔ کیا ایسا کہنا شرعاً درست ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا اپنے شوہر کو ’’ابا‘‘ یا ’’چاچو‘‘ کہہ کر پکارنا درست نہیں، تاہم اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اسی طرح شوہر کو نام لے کر پکارنا بھی مکروہ ہے۔ بہتر یہ ہے کہ سائلہ شوہر کو مخاطب کرنے کے لیے کوئی مناسب اور شائستہ لفظ کا انتخاب کرے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويكره أن يدعو الرجل أباه وأن تدعو المرأة زوجها باسمه) اهـ بلفظه.
(قوله ويكره أن يدعو إلخ) بل لا بد من لفظ يفيد التعظيم كيا سيدي ونحوه لمزيد حقهما على الولد والزوجة، وليس هذا من التزكية، لأنها راجعة إلى المدعو بأن يصف نفسه بما يفيدها لا إلى الداعي المطلوب منه التأدب مع من هو فوقه."
(كتاب الحظر و الإباحة، ج:6، ص:418، ط:سعيد)
فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:
”سوال:اگر عورت اپنےشوہر کو بھائی یا والد کہہ دیوے تو طلاق پڑی یا نہیں۔
جواب:اس صورت میں طلاق نہیں ہوئی۔“
(کتاب الطلاق، ج:9، ص:87-88، ط:دارالاشاعت)
فتاوی رشیدیہ میں ہے:
”سوال:زید غصہ میں اپنی عورت کو ماں یا بہن یا اسی طرح عورت اپنے مرد کو باپ یا بھائی یاا ور کچھ کہے، یا عورت مرد ایک دوسرے کو گالی دیویں تو اس صورت میں نکاح باقی رہتا ہے یا فاسد ہوجاتا ہے؟
جواب:ان سب صورتوں میں نکاح نہیں ٹوٹتا مگر یہ فعل خود شنیع ہے۔“
(کتاب الطلاق، ص:476، ط:عالمی مجلس تحفظ اسلام)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100272
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن