بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1447ھ 09 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی وفات کے بعد سسر سے نکاح کرنے کا حکم


سوال

اگر کسی عورت کا شوہر وفات کر جائے تو کیا وہ اپنے سسر (شوہر کے والد) سے نکاح کر سکتی ہے؟اسلام اس بارے میں کیا حکم دیتا ہے؟

جواب

عورت کا سُسَر (یعنی اس کے شوہر کا والد) اس کے لیے محرم ہوتا ہے، اس لیے عورت کا شوہر کے انتقال کے بعد اپنے سُسَر سے نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے

"(وزوجة أصله وفرعه مطلقًا) ولو بعيدًا دخل بها أو لا.

(قوله: وزوجة أصله وفرعه) لقوله تعالى: {ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم} [النساء: 22] وقوله تعالى: {وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم} [النساء: 23] والحليلة الزوجة وأما حرمة الموطوءة بغير عقد فبدليل آخر وذكر الأصلاب لإسقاط حليلة الابن المتبنى لا لإحلال حليلة الابن رضاعا فإنها تحرم كالنسب بحر وغيره."

(كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:3، ص:31، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101284

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں