بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی طرف سے خلع کی پیشکش پر عورت کا حقِ مہر واپس کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کی اپنی بیوی کے ساتھ ناراضگی چل رہی تھی ،گھریلو ناچاقی کی وجہ سے بیوی شوہر کے گھر آنےسے انکاری تھی (جہاں شوہر کی بہن ،والد اور والدہ بھی ہیں ،مطلب گھر ایک ہے کمرے الگ الگ ہیں )بیوی، الگ گھر جو اس چاردیواری سے باہر ہو کی متقاضی تھی،شوہر نے کہا تھا کہ مجھے اور گھر بنانے کی استطاعت نہیں ہے اور میں اپنے والدین اور بہن کو چھوڑکر اور جگہ نہیں جاسکتا ،اس دوران ناچاقی مزید بڑھ گئی اور شوہر ایک عالم دین کے پاس ایک خلع پیپر لےآیا کہ میری بیوی کو پیغام پہنچانا کہ یا تو وہ میرے گھر میں آجائے ،اگر نہیں آتی تو اسے کہیں کہ میں خلع نامہ بنواؤں گا اس پر دستخط کرلینا ،بیوی کو یہ پیغام پہنچادیا گیا اور وہ اس پر راضی ہوگئی  اور اپنا سارا حق مہر جو  شوہر کی طرف سے ملاتھا ،شوہر کو واپس کردیا اور کہا کہ میں خلع کے پیپر پر دستخط  کردوں گی، مگر پہلے شوہر دستخط کرے،پھر ایک دن شرعی پنچایت بلائی گئی، جہاں ایک عالم دین اور مفتی کی موجودگی میں شوہر نے خلع نامے پر دستخط کردیے ،حق مہر بھی شوہر کو واپس کردیا گیا ،بیوی کی طرف سے بطور گواہان بیوی کے ماموں اور بھائی نے دستخط کیے اور شوہر کی طرف سے شوہر کے بھائی اور ایک رشتہ دار نے دستخط کیے ،اس پر مجلس برخاست ہوئی ،اس کے بعد لڑکی کا ماموں جب خلع نامہ لےکر لڑکی کے پاس گیا تو لڑکی نے دستخط کرنے سے انکار کردیا ، وہ خلع پیپر ابھی تک لڑکی کے پاس ہے دستخط کرنے اور دینے سے انکاری ہے ،کیا صورت مسئولہ میں خلع ہوگیا ہے کہ نہیں ؟ کیا اپنی خوشی سے حق مہر واپس کرنا خلع پر رضامندی کی دلیل ہے یا نہیں؟اگر خلع ہوگیا ہے تو لڑکی کی عدت کب سے شروع ہوگی کیوں کہ لڑکی  ابھی تک سمجھ رہی کہ جب تک میں دستخط نہیں کروں گی خلع نہیں ہوگا ۔کیا خلع کےلئے بیوی کا دستخط ضروری ہے؟ جب کہ وہ پہلے راضی بھی تھی اور حق مہر اور گواہان خود بھیجے تھے۔

راہنمائی فرمائیں ،جزاکم اللہ خیرا ۔

جواب

خلع شرعاً نافذ ہونے کے لیے بیوی کی جانب سے خلع کا مطالبہ کرنا اور شوہر کی جانب سے اس مطالبہ کو تسلیم کرنا ضروری ہوتا ہے، مسئولہ صورت میں شوہر کی جانب سے خلع کے حوالہ سے جب پیغام دیا گیا، جس کے بعد بیوی نے رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے مہر شوہر کو واپس دے دیا، تو یہ بیوی کی جانب سے ایجابِ خلع تھا، پس شوہر نے گواہان کی موجودگی میں جب خلع نامہ پر دستخط کیے، تو یہ قبولِ خلع ہوا۔

لہذا مسئولہ صورت میں شرعاً خلع ہوچکا ہے، اور نکاح ٹوٹ گیا ہے، جس وقت شوہر نے دستخط کیے اسی وقت سے اس کی بیوی کی عدت شروع ہوگئی تھی، خلع نافذ العمل ہونے کے لیے بیوی کی جانب سے خلع نامہ پر دستخط کرنا شرعاً ضروری نہیں، پس مذکورہ خاتون عدتِ طلاق( مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور ماہواری آتی ہو، اور حمل ہونے کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک کا عرصہ) گزار کر کسی اور سے نکاح کرنے میں آزاد ہے، البتہ اگر مذکورہ دونوں افراد دوبارہ رشتۂ ازدواج سے منسلک ہونا چاہتے ہوں، تو نیا مہر مقرر کرکے باضابطہ دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا، تجدیدِ نکاح کے بعد شوہر کے پاس آئندہ دو طلاقیں دینے کا حق ہوگا۔

فتاویٰ قاضی خان میں ہے:

"وان کان الخطاب من قبل المرأۃ، فقالت: اخلعنی أو بارئني، فقال الزوج: فعلت، فھذا، وما لو کان الخطاب من قبل الزوج في الوجوہ سواء".

( کتاب الطلاق، ج:1، ص:479، ط:دار الکتب العلمیة)

المبسوط ِ للسرخسی میں ہے :

"(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد".

(باب الخلع، 173/6، ط:دار المعرفة)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول".

(كتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة، 145/3، ط:دار الكتب العلمية)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"إن خالعها على مهرها فإن كانت المرأة مدخولا بها وقد قبضت مهرها يرجع الزوج عليها بمهرها وإن لم يكن مقبوضا سقط عن الزوج جميع المهر ولا يتبع أحدهما صاحبه بشيء."

(کتاب الطلاق، الباب الثامن فی الخلع وما فی حکمہ ، الفصل الأول فی شرائط الخلع وحکمہ وما يتعلق بہ، ج:1، ص:489، ط:دار الفکر)

الفقه الاسلامي وادلتة للزحيلي ميں هے:

"الخلع لغة: النزع والإزالة، وعرفا بضم الخاء: إزالة الزوجية. وفقها له تعاريف في اصطلاح كل مذهب، فعند الحنفية : هو إزالة ملك النكاح المتوقفة على قبولها...فإن خالعها وقع الطلاق تطليقة بائنة، ولزمها المال."

(‌‌القسم السادس: الأحوال الشخصية، ‌‌الباب الثاني: انحلال الزواج وآثاره، ‌‌الفصل الثاني:‌‌ الخلع، ج:9، ص:7007، ط:دار الفکر)

فقہ السنۃ میں ہے:

"والخلع يكون بتراضي الزوج والزوجة."

(کتاب الطلاق،ج:2،ص:299، ط:دارالکتاب العربی)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ويكون بقول أو فعل، أما القول فالإيجاب والقبول) وهما ركنه

(قوله: وهما ركنه) ظاهره أن الضمير للإيجاب والقبول، ويحتمل إرجاعه للقول والفعل كما يفيده قول البحر. وفي البدائع: ركنه المبادلة المذكورة، وهو معنى ما في الفتح من أن ركنه الإيجاب والقبول الدالان على التبادل أو ما يقوم مقامهما من التعاطي، فركنه الفعل الدال على الرضا بتبادل الملكين من قول أو فعل."

(کتاب البیوع، ج:4، ص:504، ط:سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144705101668

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں