بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1448ھ 03 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی رضامندی سے خلع لینے کے چھ سال بعد دو طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ بھیجنے سے وقوعِ طلاق کا حکم


سوال

میری بیوی نے 22 اگست 2015ء کو عدالت کے ذریعے مجھ سے خلع کی ڈگری حاصل کی تھی، میں  نے بھی خلع کے کاغذات پر  دستخط کیے تھے۔

پھر تقریباً چھ سال بعد  27 جولائی 2021ء کو میں نے  اپنی سابقہ بیوی کے پاس طلاق کے کاغذات بھجوا ئے۔  اس نے ابھی تک شادی نہیں کی ہے۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ میں اور میری بیوی دوبارہ شادی کرنا چاہتے ہیں، کیا شریعت ہمیں دوبارہ شادی کرنے کی اجازت دیتی ہے؟ 

وضاحت: خلع کے بعد  عورت کی عدت گزر چکی ہے۔

خلع اور طلاق نامہ کے کاغذات سوال کے ساتھ منسلک ہیں۔خلع کے کاغذات میں دونوں نے دستخط کیے تھے، پھر اس کے چھہ سال بعد میں نے طلاق کے کاغذات بھیجے تھے، جس میں دو طلاقیں تحریر ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سوال نامہ کے ساتھ جو تنسیخِ  نکاح بذریعہ خلع کے کاغذات لگے ہوئے   ہیں،اس میں اس بات کی صراحت ہے  کہ جج نے شوہر کے سامنے  بیوی کو تنسیخ نکاح بذریعہ خلع  کی ڈگری جاری کی،جس پر میاں بیوی دونوں نے دستخط کیے، شوہر کا خلع نامہ پر دستخط کرنے سے اس کی بیوی  پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی تھی، میاں بیوی کے درمیان زوجیت کا رشتہ ختم ہوچکا تھا، اور عدت گزرنے کے بعد  سائل کی بیوی اس کے لیے اجنبی بن گئی تھی۔ 

لہٰذا سائل کا چھ سال بعد طلاق کے کاغذات  (جن میں دو طلاق رجعی مذکور ہیں) اپنی سابقہ بیوی کے پاس بھیجنے سے  اس پر مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، کیوں کہ عورت پر طلاق واقع کرنے کے لیے اس کا مُطَلِّق (طلاق دینے والے) کی زوجیت میں ہونا  ضروری ہے، جبکہ سائل کی  بیوی عدت گزرنے کے بعد اس کی زوجیت سے مکمل طور پر آزاد ہوچکی تھی۔

الغرض سائل کی بیوی پر صرف ایک طلاق بائن واقع ہوچکی تھی، لہٰذا سائل کے لیے اپنی سابقہ بیوی کے ساتھ  شرعی گواہوں کی موجودگی میں نیا مہر مقرر کر کے دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے، البتہ آئندہ شوہر کے پاس صرف دو طلاقیں دینے کا اختیار ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية."

(كتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حكمه، الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه، ج: 1، ص: 488، ط: دار الفكر بيروت)

رد المحتار میں ہے:

"(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح......(لا) يلحق البائن (البائن)."

(قوله بشرط العدة) هذا الشرط لا بد منه في جميع صور اللحاق، فالأولى تأخيره عنها. اهـ. ح."

(كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج: 3، ص: 306، 308، ط: سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(فصل) وأما الذي يرجع إلى المرأة فمنها الملك أو علقة من علائقه؛ فلا يصح الطلاق إلا في الملك أو في علقة من علائق الملك وهي عدة الطلاق أو مضافا إلى الملك."

(كتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة، ج: 3، ص: 126، ط: دارالكتب العلمية)

رد المحتار  میں ہے:

"(ومحله المنكوحة)

(قوله ومحله المنكوحة) أي ولو معتدة عن طلاق رجعي أو بائن غير ثلاث في حرة وثنتين في أمة أو عن فسخ بتفريق لإباء أحدهما عن الإسلام أو بارتداد أحدهما."

(كتاب الطلاق، محل الطلاق، ج: 3، ص: 230، ط: سعيد)

فتاوٰی ہندیہ  میں ہے:

"إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها."

(كتاب الطلاق، الباب السادس، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: 2، ص: 472، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144801102538

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں