بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی رضا مندی کے بغیر یک طرفہ عدالتی خلع کی شرعی حیثیت


سوال

میری بہو نے اپنے شوہر کے خلاف عدالت سے یک طرفہ خلع لی ہے، شوہر نے کوئی دستخط نہیں کیا، تو کیا ایسی صورت میں طلاق (خلع) واقع ہوجائے گی؟ اور کیا ہم اب ہم دوبارہ صلح کرواسکتے ہیں یا نہیں؟ تاکہ وہ اپنی ازدواجی زندگی برقرار رکھیں۔

جواب

خلع کے شرعا معتبر ہونے کے لیے بیوی کی جانب سے اپنے مہر کے عوض خلع کا مطالبہ کرنا اور شوہر کی جانب سے اس مطالبے کو قبول کرنا ضروری ہوتا ہے، شوہر کے تسلیم کیے بغیر یک طرفہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہے، صورتِ مسئولہ میں منسلکہ کاغذات سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت نے یک طرفہ طور پر شوہر سے نفرت اور علیحدگی کا مقدمہ دائر کیا، شوہر نہ  عدالت میں حاضر ہوا، نہ اس نے خلع کی اجازت دی اور نہ ڈگری کو تسلیم کیا ہے، اور عورت کو یک طرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری کی گئی ہے۔ لہذا اس سے شرعاً خلع واقع نہیں ہوا، دونوں کا نکاح  بدستور قائم ہے۔

احكام القرآن للجصاص میں ہے:

"قال أصحابنا: إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين، فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين; لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان؟"

(سورة النساء، باب الحكمين كيف يعملان، ج: 2، ص: 271، ط: قديمي)

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول."

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج: 3، ص: 441، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100098

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں