بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی پرسنل اشیاء دیکھنے کا حکم


سوال

کیا بیوی اپنے شوہر کی چیزیں ڈاکومنٹ وغیرہ  دیکھ سکتی ہے؟میرا شوہر کے سامان پر کتنا حق ہے ؟ کیا اسلام میں نہیں ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی کوئی بھی پرسنل چیز دیکھے؟

جواب


واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے ہر شخص کو اپنی مملوکہ اشیاء کے جائز استعمال میں آزاد رکھا ہے، اور اسے یہ حق دیا ہے کہ وہ دوسرے افراد کو اس سے کسی بھی قسم کے تصرفات سے روکے، اور دوسروں کو پابند کیا ہے کہ کسی کی کسی بھی چیز میں مالک کی اجازت  اور اس کی رضامندی کے بغیر تصرف نہ کرے،شرعی اعتبار سے شوہر اپنے ڈاکومنٹس، ذاتی کاغذات اور دیگر نجی اشیاء کا خود  مالک ہے، جس طرح بیوی اپنی ذاتی اشیاء کی خود مالک ہوتی ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر کی طرف سے بیوی کو اپنی نجی اشیاء، مثلاً ڈاکومنٹس وغیرہ، دیکھنے کی صراحتاً یا دلالتاً اجازت ہو (دلالتاً اجازت سے مراد یہ ہے کہ شوہر نے زبان سے تو اجازت نہ دی ہو، لیکن اپنی پرسنل اشیاء خود بیوی کو دکھاتا رہتا ہو یا بیوی ان اشیاء کو دیکھتی رہتی ہو اور شوہر نہ اسے منع کرے اور نہ ہی ناراضگی کا اظہار کرے)، تو ایسی صورت میں بیوی کے لئے شوہر کے ڈاکومنٹس اور دیگر نجی اشیاء دیکھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ تاہم اگر شوہر اپنی بیوی کو اپنے ڈاکومنٹس یا دیگر ذاتی اشیاء دیکھنے سے منع کرے، تو بیوی کے لئے انہیں بلا اجازت دیکھنا جائز نہیں ہوگا۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «.....ومن استمع إلى ‌حديث ‌قوم ‌وهم ‌له ‌كارهون، أو يفرون منه، صب في أذنه الآنك يوم القيامة.....» "

ترجمہ:”۔۔۔جو شخص کسی قوم کی بات کان لگا کر سنے جبکہ وہ اس کے سننے کو ناپسند کرتے ہوں، یافرمایا:جبکہ وہ  اس سےبھاگتے (یعنی وہ لوگ اس سے یہ بات چھپانا چاہتے)ہوں، تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔۔۔“

(صحيح البخاري، كتاب التعبير، باب من كذب في حلمه، رقم الحديث:7042، ج:9، ص:42، ط:دار طوق النجاة - بيروت)

"عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من نظر في كتاب أخيه بغير إذن فكأنما ينظر في النار"."

ترجمہ:”جو شخص اپنے بھائی کے خط یا تحریرکو اس کی اجازت کے بغیر دیکھے، تو گویا وہ آگ میں جھانکتا ہے۔“

(إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة، كتاب الأدب، باب اطلبوا الخير عند حسان الوجوه...وفيمن نظر ‌في ‌كتاب ‌أخيه بغير إذنه ، رقم الحديث:5509، ج:6، ص:139، ط:دار الوطن للنشر، الرياض)

شرح صحیح البخاری لابن بطال میں ہے:

"وقال الطبرى: إن سأل سائل عن معنى قوله: (من استمع إلى حديث قوم ‌وهم ‌له ‌كارهون. .) الحديث. فقال: أرأيت إن استمع إلى حديث قوم لا ضرر على المحدثين فى استماعه إليهم، وللمستع فيه نفع عظيم إما فى دينه أو دنياه، أيجوز استماعه إليه وإن كره ذلك المتحدثون؟ قيل: المستمع لا يعلم هل له فيه نفع إلا بعد استماعه إليه، وبعد دخوله فيما كره له رسول الله عليه السلام فغير جائز له اسماع حديثهم، وإن كان ضرر عليهم فيه؛ لنهى النبى عليه السلام عن الاستماع إلى حديثهم نهيا عاما، فلا يجوز لأحد من الناس أن يستمع إلى حديث قوم يكرهون استماعه، فإن فعل ذلك فأمره إلى خالقه إن شاء غفر له وإن شاء عذبه. فإن قيل: أفرأيت من استمع إلى حديثهم وهو لايعلم هل يكرهون ذلك، هل هو داخل فيمن يصب فى أذنيه الآنك يوم القيامة؟ قيل: إن الخبر إنما ورد بالوعيد لمستمع ذلك وأهله له كارهون، فأما من لم يعلم كراهتهم لذلك فالصواب ألا يستمع حديثهم ألا بإذنهم له في ذلك؛ للخبر الذي روى عن النبى صلى الله عليه وسلم : (أنه نهى عن الدخول بين المتناجيين) فى كراهية ذلك إلا بإذنهم. والآنك: الرصاص المذاب."

(كتاب التعبير، باب من كذب في حلمه، ج:9، ص:555، ط:مكتبة الرشد - السعودية، الرياض)

الابواب و التراجم لصحیح البخاری میں ہے:

"(23 -‌‌ باب من نظر في كتاب من يحذر على المسلمين ليستبين أمره)

قال العلامة العيني: أي: هذا باب في بيان جواز من نظر في كتاب من يحذر على صيغة المجهول من الحذر، أي: الخوف، وقال الجوهري: الحذر التحرز. قوله: (ليستبين) أي: ليظهر أمره. فإن قلت: أخرج أبو داود من حديث ابن عباس: "من نظر في كتاب أخيه بغير إذنه فكأنما ينظر في النار"، قلت: يخص منه ما يتعين طريقا إلى دفع مفسدة هي أكبر من مفسدة النظر على أن هذا حديث ضعيف، انتهى. وهكذا في "القسطلاني" ولفظه في الجواب عن الحديث المذكور: إنما هو في حق من لم يكن متهما على المسلمين، وأما من كان متهما فلا حرمة له، انتهى. وقال الحافظ في الغرض من الترجمة: كأنه يشير إلى أن الأثر الوارد في النهي عن النظر في كتاب الغير يخص منه ما يتعين طريقا إلى دفع مفسدة هي أكثر من مفسدة النظر، انتهى."

(كتاب الاستئذان، باب من نظر في كتاب من يحذر على المسلمين ليستبين أمره، ج:6، ص:349، ط:دار البشائر الإسلامية للطباعة، بيروت)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

«لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار...والإذن إما أن يكون صراحة وهو كما مر معنا في المادة (95) وإما أن يكون دلالة وهو كما سيأتي بيانه في المادتين (1078 و 1079) .»

(مقدمة، المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، رقم المادة:96، ج:1، ص:96، ط:دار الجيل)

وفیہ ایضاً:

«كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد، هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير.»

(الكتاب العاشر الشركات، الباب الثالث، الفصل الأول، رقم المادة: 1192، ج:3، ص:201، ط:دار الجيل)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144608100970

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں