بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہرکی مارپیٹ پربیوی کاخلع لینا


سوال

میری شادی کوپانچ سال ہوگئےہیں ،شروع ہی سےمیرےسسرال والوں کاہماری ازدواجی زندگی میں دخل رہا،میری ساس میرےشوہرکومیرےبارےمیں غلط ابھارتی رہتی ہیں، میرےدوبچےہیں، ایک بچی جوکہ  ساڑھےتین سال کی  اوردوسرابچہ جوکہ ڈھائی سا ل کاہے،میری بیٹی کی عمرجب چھ ماہ ہوئی تھی تومیرےشوہرنےاسےمجھ سےچھین لیااوراسےاپنےپاس رکھناشروع کردیا، نانی کےہاں جانےنہیں دیتے،اسی دوران میری ساس مجھ پرالزام لگاتی ہےکہ تیراسسرکیساتھ چکرہےیعنی اس سےعشق محبت  کرتی ہے،جب میں اس کے ان الزامات کاانکارکرنےکےلیےبولتی ہوں تومیراشوہرمجھےکہتاہےکہ تومیری ماں کےسامنےکچھ بھی نہ بولاکربس خاموش ہوجایاکر، جب کہ میں ان الزامات کوبرداشت نہیں کرپاتی اوراسےجواب دیتی ہوں تومیرےشوہرمجھےمارتےہیں، اسی وجہ سےمیں اپنےمیکےچلی گئی ،میراشوہرسےفون پررابطہ ہواتواس نےبغیرمعافی تلافی کرکےمجھےواپس بلوالیا،تومیں اپنی بیٹی اورہونےوالےبچے کاسوچ کرسسرال چلی آئی ،میری ڈلیوری سسرال میں ہوئی اورمیرابیٹاپیداہوا،اس کی پیدائش کےچھ روزبعدپھرمیری ساس کی الزام تراشی شروع ہوگئی ،تواس پرمیرےشوہرنےمجھےبہت مارا کہ میری حالت خراب ہوگئی ،میرےگھروالےاچانک مجھےملنےآئےتومیری حالت کودیکھ کرپریشان ہوگئے،وہ مجھےجناح ہسپتال کےایمرجنسی میں لےگئے،میں اپنےساتھ اپنابچہ بھی لےگئی تھی، پھرمیں اپنےمیکےہی رہی، اورجوب کرکےاپنےبچہ کاخرچہ کرتی تھی، میرےشوہرنےفون پرمجھےواپس آنےکاکہاتومیں نےاپنی ساس کےالزامات سےبچنے کےلئےشوہرسےالگ گھرکامطالبہ کیاتوبڑی مشکل سےاس نےیہ فیصلہ کیاکہ چھت پرہم لوگ رہیں گےتومیں اس پرتیارہوگئی لیکن مارپیٹ ابھی بھی برقرارہے،مجھےمیرےبچوں کےسامنےاتنامارتااورپیٹتاہےکہ میرےچھوٹےچھوٹےبچےسہم جاتےہیں اورمیرےجسم پرنشانات پڑجاتےہیں، اس بار مجھے مارا بھی اورمجھ سےبچےبھی چھین لیے۔مجھےمیرےسسرال کی طرف سےیہ پیغام آیاہےکہ اپناسامان اٹھالو اور ہمارا بیٹااب آپ کونہیں بسائےگا،اورمیں بھی کسی حالت میں اس کےساتھ رہنےکوتیارنہیں ہوں ۔

اب سوال یہ ہےکہ1۔ مذکورہ صورتحال کی روسےکیامیں خلع کامطالبہ کرسکتی ہوں ؟

2اورخلع کےبعدعدت کتنی ہوگی؟

3۔اگرمیں خلع کےبعدبچوں کی پرورش نہ لوں توکیامجھ پرکوئی گناہ و تونہیں ہوگا؟

جواب

2۔1۔صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا شوہر اگر اپنے اس رویہ سے باز نہیں آتا تو   سائلہ اپنا حق مہر معاف کر کے  یا مہرواپس کرنے کی شرط پر  شوہر سے خلع کا مطالبہ کرسکتی ہےاگر شوہر اس کو قبول کر لے تو وہ خلع  شرعا معتبر ہوگا اور اس کے ذریعہ ایک طلاق بائن واقع ہوجائے گی  ،اس کے بعد سائلہ  اپنی عدت(مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو ،اور حمل کی صورت میں بچے کی ولادت  تک) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی،اور اگر شوہر خلع کو قبول نہ کرے تو خلع معتبر نہیں ہوگا ؛کیوں کہ خلع میں میاں بیوی کی رضامندی ضروری ہے۔

3۔واضح رہےکہ اگرزوجین کےدرمیان تفریق ہوجائے اور ان کے ہاں اولاد بھی ہو تو ان کی پرورش و تربیت کے حوالے سے شریعت کا حکم یہ ہے کہ اگر اولاد میں بیٹے ہوں تو سات  سال کی عمر تک ان کی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہوگا۔اوراگر بیٹیاں ہوں تو نو سال کی عمر تک ان کی پرورش کا حق ماں کے پاس رہے گا،مقررہ مدت کے بعد ماں کا یہ حق ساقط ہو جائے گا اور بچوں کی تربیت کی ذمہ داری والد کے سپرد ہوگی، تاہم ماں اگراپناحق ساقط کردےیا بچوں کےکسی غیرمحرم ( اجنبی) سےنکاح کرلےتوایسی صورت میں حق پرورش بالترتیب بچوں کی نانی،پرنانی ،دادای پردادی ،بہن خالہ اورپھوپھی کومنتقل ہوگا۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں اگرسائلہ اور اس کے شوہر میں علیحدگی ہو جائے اوراوپرذکرکردہ خواتین میں سے بالترتیب کوئی بچوں کی درست طریقہ پرپرورش کرلیتی ہوں تواس صورت میں اگر سائلہ اپنےبچوں کی پرورش نہ کرےتوکوئی  مضائقہ نہیں  ہے،نیزبچوں کی پرورش اورتعلیم کےاخراجات والدکےذمہ ہوں گے۔

مجمع الأنهر میں ہے:

"ولا بأس به) أي بالخلع (عند الحاجة) بل هو مشروع بالكتاب والسنة وإجماع الأمة عند ضرورة عدم قبول الصلح وفي شرح الطحاوي إذا وقع بينهما اختلاف فالسنة أن يجتمع أهل الرجل والمرأة ليصلحا بينهما فإن لم يصلحا جاز له الطلاق والخلع وفيه إشارة إلى أن عدم الخلع أولى."

(باب الخلع، ج: 1، ص: 759، ط: دار إحياء التراث العربي، بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة ولايستحق العوض بدون القبول".

 (كتاب الطلاق، باب الخلع ،ج: 3، ص: 441، ط: سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وإن كان ببدل فإن كان البدل هو المهر بأن خلعها على المهر فحكمه أن المهر إن كان غير مقبوض أنه يسقط المهر عن الزوج، وتسقط عنه النفقة اماضية، وإن كان مقبوضا فعليها أن ترده على الزوج،"

(کتاب الطلاق، فصل فی حکن الخلع، ج:3، ص: 151، ط: دارلکتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"لو امتنعت الأم وكان له جدة رضيت بإمساكه دفع إليها لأن الحضانة كانت حقا للأم فصح إسقاطها حقها.....وظاهر كلامهم أن الأم إذا امتنعت وعرض على من دونها من الحاضنات فامتنعت أجبرت الأم لا من دونها. (قوله: وحينئذ) أي حين لم يوجد غيرها فلا أجرة لها لأنها قامت بأمر واجب عليها شرعا ط. وعبارة الجوهرة: إذا كان لا يوجد سواها تجبر على إرضاعه صيانة له عن الهلاك وعليه لا أجرة لها."

(کتاب الطلاق،‌‌ باب الحضانة، ج: 3، ص: 560، ط: سعید)

وفیہ أیضا:

"(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا.وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى."

(کتاب الطلاق، باب الحضانۃ، ج: 3، ص: 566، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد...إرضاع الصغير إذا كان يوجد من ترضعه إنما يجب على الأب إذا لم يكن للصغير مال، وأما إذا كان له مال فتكون مؤنة الرضاع في مال الصغير كذا في المحيط..ونفقة الصبي بعد الفطام إذا كان له مال في ماله هكذا في المحيط."

(کتاب الطلاق، الباب السابع ، الفصل الرابع، ج: 1، ص: 560، ط: دار الفكر بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100738

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں