بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی اجازت سے اسقاط حمل کا حکم


سوال

ایک گائنی  ڈاکٹر نے روح داخل ہونے کے بعد حمل ختم کرنے کی تجویز دی، ایک ایسے کیس میں جہاں غیر معمولی جنین زندہ تھا لیکن زندگی کے قابل نہیں تھا۔

جوڑے (خاتون اور ان کے شوہر) نے اتفاق کیا اور اسقاطِ حمل کیا گیا۔ جنین مردہ پیدا ہوا۔ کیا اس پر کوئی سزا ہے، جیسے دیت یا غرامہ؟ اگر ہاں، تو کس پر؟ کون اسے ادا کرے اور کس کو، اور رقم پاکستان روپے میں کتنی ہوگی؟ 

جواب

واضح رہے کہ اگر حمل چار ماہ کا ہو جائے تو اسے ضائع کرنا کسی صورت جائز نہیں ہے، اگر حمل چار ماہ سے کم کا ہو اور دین دار اورماہر ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ بچہ کی پیدائش کی وجہ سے ماں کی جان کو یقینی یا غالب گمان کے مطابق خطرہ ہے یا ماں کی صحت حمل کاتحمل نہیں کرسکتی  یا  پھر پہلے بچے کی تربیت میں دقت ہونے اور صحیح تربیت نہ ہونے کا اندیشہ ہوتو اسقاط حمل کی گنجائش ہے۔ اگر معاشی خوف کی وجہ سے ہو تو اسقاط ناجائز ہے، اگر چہ حمل چار ماہ سے کم مدت کا ہو۔ اور شدید ضرورت نہ ہو تو چار ماہ سے کم مدت کا حمل بھی ساقط کرنا درست نہیں ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ حمل چار ماہ سے زائد عرصہ کا ہے اور اس میں جان پڑچکی ہے اس کو گرانا جائز نہیں تھا، یہ قتل کے حکم میں ہے جو کہ سخت گناہ کا کام ہے،  میاں   بیوی دونوں پر لازم ہے کہ صدق دل سے توبہ واستغفار کریں۔ البتہ جب شوہر کی اجازت سے اسقاط حمل ہوا تو کسی پر کچھ بھی ضمان لازم نہیں ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"أسقطته ميتا) عمدا (بدواء أو فعل) كضربها بطنها (بلا إذن زوجها فإن أذن) أو لم يتعمد (لا) غرة لعدم التعدي، ولو أمرت امرأة ففعلت لا تضمن المأمورة، وأما أم الولد إذا فعلته بنفسها حتى أسقطته فلا شيء عليها لاستحالة الدين على مملوكه ما لم تستحق فحينئذ تجب للمولى الغرة لأنه مغرور. وفي الواقعات: شربت دواء لتسقطه عمدا فإن ألقته حيا فمات فعليها الدية والكفارة، وإن ميتا فالغرة ولا ترث في الحالين.

(قوله فإن أذن لا) ذكره الزيلعي وصاحب الكافي وغيرهما.

(قوله فعليها الدية والكفارة) أي ولو بإذن الزوج لتحقق الجناية على نفس حية فلا تجري فيها الإباحة، بخلاف ما إذا ألقته ميتا فتسقط الغرة عنها لو بإذنه كما مر تأمل."

(کتاب الدیات، فصل فی الجنین، ج:6، ص:592، ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(ضرب بطن امرأة حرة) حامل ۔۔۔۔ (ولو) كانت (المرأة كتابية أو مجوسية) أو زوجته (فألقت جنينا ميتا) حرا (وجب) على العاقلة (غرة)."

(كتاب الديات، فصل في الجنين، ج:6، ص:587، 588، ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والمرأة إذا ضربت بطن نفسها، أو شربت دواء لتطرح الولد متعمدة، أو عالجت فرجها حتى سقط الولد ضمن عاقلتها الغرة إن فعلت بغير إذن الزوج، وإن فعلت بإذنه لا يجب شيء كذا في الكافي."

(کتاب الجنایات، الباب العاشر فی الجنین، ج:6، ص:35، ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101683

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں