
میری بیٹی کا نکاح ہوا تھا اور اس سے ایک بیٹی پیدا ہوئی ہے جس کی عمر تقریباً چھ سال ہے۔ مورخہ 20 دسمبر 2025 کو عدالت میں فریقین کی موجودگی میں جج صاحب نے علیحدگی کا حکم نامہ شوہر کی رائے لے کر کہ میں خلع کا آرڈر کرتا ہوں آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے اس پر شوہر نے رضامندی کا اظہار کیا جس پر عدالت نے علیحدگی کا حکم نامہ جاری کر دیا۔ لیکن اس کے بعد شوہر طلاق نامے پر دستخط اور زبانی طلاق دینے کے لئے تیار نہیں۔
آیا عدالتی حکم نامے جو شوہر کی موجودگی میں جاری ہوا اس عدالتی آرڈر یعنی خلع کے بعد لڑکی دوسرا نکاح کر سکتی ہے؟ یا طلاق لینا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ خلع میں فریقین (متعاقدین) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے، میاں بیوی کی رضامندی کے بغیر خلع معتبر نہیں ہوتا۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کے داماد نے عدالت میں جج صاحب کے پوچھنے پر خلع پر آمادگی ظاہر کردی تھی اور اس بنیاد پر جج صاحب نے خلع کا فیصلہ کردیا تو وہ فیصلہ شرعاً بھی معتبر ہوا، اور ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوگیا۔ اب اگرچہ شوہر طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے انکار کردے اس سے فرق نہیں پڑتا، سائل کی بیٹی عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزادہے۔
البتہ اگر دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو عدت کے دوران یاعدت کے بعد، شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں،ایسی صورت میں آئندہ کے لیے شوہر کو صرف دو طلاقوں کا حق ہوگا۔
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض."
(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:6، ص:173، ط:دارالمعرفة بیروت)
وفیہ ایضاً:
"وإذا اختلعت المرأة من زوجها فالخلع جائز، والخلع تطليقة بائنة عندنا."
(باب الخلع، ج: 6، ص 308 ط: دار المعرفۃ)
فتاوی شامی میں ہے:
" (و) شرطه كالطلاق»وصفته ما ذكره بقوله (وهو يمين في جانبه) لأنه تعليق الطلاق بقبول المال (فلا يصح رجوعه) عنه (قبل قبولها، ولا يصح شرط الخيار له.
(قوله: فلا يصح رجوعه إلخ) أي لو ابتدأ الزوج الخلع، فقال خالعتك على ألف درهم لا يملك الرجوع عنه، وكذا لا يملك فسخه، ولا نهي المرأة عن القبول، وله أن يعلقه بشرط ويضيفه إلى وقت، مثل: إذا قدم زيد فقد خالعتك على كذا، أو خالعتك على كذا غدا، أو رأس الشهر والقبول إليها بعد قدوم زيد ومجيء الوقت لأنه تطليق عند وجود الشرط والوقت فكان قبولها قبل ذلك لغوا بدائع."
(کتاب الطلاق،باب الخلع، ج:3، ص: 441، ط:سعيد)
فقط وألله أعلم
فتویٰ نمبر : 144712101295
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن