بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 محرم 1448ھ 17 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی اجازت کے بغیر عدالت کے زبانی یکطرفہ خلع کا حکم


سوال

میری تین سال پہلے شادی ہو گئی تھی ،میری ایک بیٹی بھی پیدا ہو گئی ہے ، پھر میری بیوی کے ساتھ معمولی باتوں پر لڑائی کی وجہ سے میری بیوی اپنی میکے چلی گئی۔

کچھ عرصہ بعد اس نے عدالت میں خلع کیس کیا، خلع کیس کی تاریخ جو عدالت نے دی تھی اس تاریخ پر میرے ماموں کا انتقال ہوا تھا، تو میں کورٹ میں حاضر نہیں ہو سکا اور اپنے وکیل کے ذریعے یہ پیغام بھیجوایا کہ آج میرے ماموں کا انتقال ہوا ہے، لہذا کیس کی تاریخ آگے دوسری رکھی جائے، اور وکیل نے جج کے سامنے یہ اسٹیٹمنٹ رکھا ،جج آگے تاریخ لکھ رہے تھے لیکن بیوی نے کہا کہ مجھے خلع چاہیے، تو جج نے زبانی طور پر کہا تھا "کہ تمہاری خلع ہو گئی" لیکن تحریری طور پر جج نے خلع کی کوئی ڈگری جاری نہیں کی تھی ، بلکہ اس سے پہلے ہم نے خلع کا کیس ود ڈرا کیا اور خلع واپس لی ،دونوں کی رضامندی سے یہ ہوا ۔

(نوٹ :بیوی خلع اس وجہ سے لینا چاہتی تھی اور اس وجہ سے اس نے میرا گھر چھوڑ کر میکے چلی گئی تھی،  کہ وہ مجھ سے الگ گھر کا مطالبہ کر رہی تھی، کیونکہ میرے گھر والوں کے ساتھ اس کی نہیں بن رہی تھی ،باقی میں اس کو پورا نان نفقہ اور ماہانہ خرچ اور جتنی ضروریات ہیں وہ میں پوری کر رہا تھا۔)

باقی اس کے علاوہ نہ میں نے زبانی طور پر کوئی طلاق کا لفظ بولا ہے اور نہ خلع کا لفظ بولا ہے اور نہ میں نے خلع کے کاغذات پر دستخط کیے تھے، اور نہ میری بیوی نے خلع کے کاغذات  پر دستخط کیے تھے۔

مذکورہ بالا صورت حال کو دیکھ کر کیا میرا نکاح برقرار ہے یا طلاق ہو چکی ہے؟ کیونکہ میری بیوی تقریبا دو سال تک مجھ سے الگ اپنے والدین کے گھر رہ رہی تھی۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ سائل نے نہ خلع نامہ پر دستخط کئے ہیں ،اور نہ بیوی نے ،اور نہ عدالت کی طرف سے کوئی خلع ڈگری جاری کی گئی ہے، بلکہ زوجین کی باہمی رضامندی سے یہ کیس واپس لے لیا گیا  تو  جج کے صرف اتنا کہنے سے کہ ”آپ کی خلع ہوگئی“ خلع واقع نہیں ہوئی، نکاح برقرار ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده."

(کتاب الطلاق،باب الخلع،ج:3،ص:440،،ط:سعید)

بدائع الصنائع میں ہے :

"أما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول."

(کتاب الطلاق،فصل فی شرائط رکن الطلاق ج:3،ص:145 ،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100455

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں