بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر خلع کی پیشی پر حاضر ہو، لیکن دستخط نہ کرے تو خلع معتبر نہیں ہوگا


سوال

میں  نےمندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر  تنسیخ نکاح کے لیے کورٹ سے رجوع کیاتھا:

شوہر  بے روزگار رہتاتھا، بے اولادی کی وجہ سے سسرال والوں کی طرف سے ذہنی اذیت دی جاتی تھی، شوہر کی  طرف سے مار پیٹ  کا سامنا تھا،گھر کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے میں نے نوکری کی اور گھر کے اخراجات پورے کیے،شوہر کے قرض اتارنے کے لیے بیسیاں ڈالیں ،میرا زیور جو میری والدہ کی طرف سے دیا گیا تھا میرے علم میں لائے بغیر بیچ دیاگیا ۔

ان سب باتوں  کو 7 سال تک برداشت کرنے کےبعد میں نے کورٹ میں خلع کے لیے درخواست دی ، 2 پیشیوں کے بعد جب تیسری پیشی میں شوہر  حاضر ہوئے تو کورٹ نے انہیں اپنا جواب جمع کروانے کے لیے کہاجو انہوں نے نہیں کرایا، جس پر عدالت نے میرے حق میں فیصلہ دے دیا۔

میرا سوال یہ ہے کہ اس صورت میں میری خلع واقع ہوگئی یا نہیں شریعت کے حوالہ سے میری رہنمائی فرمائیں ۔

خلع واقع ہونے کی صورت میں عدت کی کیا مدت ہوگی ؟جب کہ میں سال بھر سے اپنی والدہ کے پاس ہوں  ۔

جواب

سائلہ کی جانب سے فراہم کردہ  دستاویزات کے مطابق بیوی نے شوہر کی جانب سے اس کی کفالت نہ کرنے اور اس پر تشدد کرنے کی بنیاد پر عدالت سے خلع کی بابت رجوع کیا تھا اور اپنے دعوی کے ثبوت  میں بیان حلفی جمع کرایا تھا، اور اسی بیان کی بنیاد پر شوہر کی رضامندی کے بغیر اس کی غیر موجودگی  میں خلع کافیصلہ کیا گیا، ایسایک طرفہ فیصلہ شرعا معتبر نہیں ہوگا، کیوں کہ خلع کے شرعاً معتبر ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط بیوی کے جانب سے اپنے مہر کے عوض خلع کا مطالبہ کرنا اور شوہر کی جانب سے اس مطالبہ کو تسلیم کرنا ہے؛لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ بدستور اپنے شوہر کے نکاح میں ہے، اس کے لیے کسی اور سے نکاح کرنا اس وقت تک  جائز نہیں  ہوگا جب تک کہ اس کا شوہر مذکورہ فیصلہ کو قبول نہ کرلے، اور پھر سائلہ عدتِ طلاق گزار نہ لے۔ 

نیز مذکورہ فیصلہ کو تنسیخ نکاح بھی نہیں قرار دیا جاسکتا، اس لیے کہ تنسیخِ نکاح کے لیے نان و نفقہ نہ دینے پرگواہ قائم کرنا ضروری ہے، بیان حلفی پر اکتفاء کرنے کی صورت میں تنسیخ شرعاً معتبر نہیں ہوگی۔

نیز سائلہ کے شوہر نے  سائلہ کے علم میں لائے بغیر سائلہ کو والدہ کی طرف سے ملنے والا جوسونا فروخت کیا ہے ، سائلہ اس سونے کا مطالبہ کر سکتی ہے۔اور شوہر کے ذمہ مذکورہ سونا لوٹانا لازم ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه ‌عقد ‌على ‌الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول."

(كتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق، ج:3، ص:145، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"فقالت: ‌خلعت ‌نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده."

(كتاب الطلاق، باب الخلع، ج:3، ص:440، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144708100122

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں