بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہرکے نطفے میں بچہ پیدا ہونے کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے خلع لینے کا حکم


سوال

میرا نکاح سن 2011 میں ہوا تھا، نکاح کے بعد میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہوا،نکاح سے پہلے مجھے شوہر کے بارے میں معلوم نہیں تھا کہ اس کے بچے پیدا نہیں ہوسکتے، بعد ازاں میڈیکل ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ شوہر کے مادہ میں وہ جرثومے نہیں ہیں جن سے بچہ پیدا ہوسکے، یعنی اس میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت  نہیں ہے، اس بنیاد پر عدالت میں خلع کا مقدمہ دائر کیا گیا، اور عدالت نے شوہر کی رضامندی اور دستخط کے بغیر یک طرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری کر دی۔

کیا اس عدالتی ڈگری سے شرعاً ہمارا نکاح ختم ہو گیا ہے؟ اور کیا میں دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہوں؟

جواب

 خلع  دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات کے درست ہونے کے لیے عاقدین کی رضامندی شرعاً ضروری ہوتی ہے، اسی طرح خلع شرعا درست ہونےکے لیے بھی جانبین (زوجین)کی رضامندی ضروری ہے اور شوہر کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ عدالتی  خلع شرعاً معتبر نہیں ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے حق میں  عدالت نے شوہر کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر خلع ڈگری جاری کی ہے، اس عدالتی فیصلے کو شرعی خلع بھی قرار نہیں دیا جاسکتا، اور نہ ہی تنسیخ نکاح قرار دیا جاسکتا ہے؛ کیوں کہ تنسیخ نکاح کے لیے   ضروری ہے کہ تنسیخِ نکاح کے اسباب پائے جائیں،( جیسے شوہر کا نامرد ہونا، یا مجنون ہونا، یا مفقود  ہونا، یا متعنت ہونا)، جب کہ شوہر کے نطفے میں بچہ پیدا کرنے  کی صلاحیت کا نہ ہونا ایسا شرعی عذر نہیں جس کی وجہ سے بیوی کو فسخ نکاح  کا حق حاصل ہو، لہٰذاسائلہ کا نکاح بدستور برقرار ہے، سائلہ کے کےلیے دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے، تاہم اگر شوہر عدالتی خلع پر زبانی یا تحریری طور پر رضامندی کا اظہار کرے تو خلع صحیح ہوجائے گا اور نکاح ختم ہوجائے گا، پھر اس کے بعد عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت ہوگی۔

بدائع الصنائع ميں هے:

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ‌ولا ‌يستحق ‌العوض ‌بدون ‌القبول."

(كتاب الطلاق،فصل واما ركن الخلع،ج:3ص:229،ط:دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامي ميں هے:

"وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ‌ولا ‌يستحق ‌العوض ‌بدون ‌القبول."

(كتاب الطلاق، باب الخلع، ج:3 ص:441، ط: سعيد)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"لو ‌لم ‌يكن ‌له ‌ماء ‌ويجامع فلا ينزل لا يكون لها حق الخصومة كذا في النهاية."

(کتاب الطلاق،الباب الثاني عشر في العنين، ج:1، ص:525، ط:دار الكتب العلمية)

النهاية في شرح الهداية میں ہے:

"ولو وطئها مرة ثم عجز فلا خيار لها، وقد ذكرناه، وكذلك ‌لو ‌لم ‌يكن ‌له ‌ماء ‌ويجامع ولا ينزل لا يكون لها حق الخصومة، وهل يأثم بترك الوطء مرة، ففي شرح بكر رحمه الله يأثم إذا تركها متعنتا مع القدرة، فأما المولى هل يأثم بترك وطء الأمة مع القدرة وحاجتها إلى ذلك؟ قال: ينبغي أن لا يأثم."

(کتاب الطلاق،‌‌باب العنين، ج:9 ،ص:76، ط:مركز الدراسات الإسلامية بكلية الشريعة والدراسات الإسلامية بجامعة أم القرى)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100737

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں