بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1447ھ 08 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے کاروبار میں بیوی کا کام کرنا / بیوی بچوں کا نان و نفقہ شوہر کے ذمہ لازم ہے


سوال

1۔ گھر کے ایک کمرے میں میرے شوہرنے اپنےپیسوں سے مایونیز کا کاروبار شروع کیا، مشین ،سامان اور لوگوں سے پیسے جمع کرنے کا کام شوہر کا ہوتا تھا، پکانے اور پیکنگ کے کام وغیرہ میں ساری ذمہ داری میری ہوتی تھی اور میں اس میں ان کی مدد کرتی تھی، آدھا کام میں کرتی تھی۔ اور آدھا کام وہ کرتے تھے،اب کاروبار چل پڑا ہے توشوہر مجھے اس میں سے حصہ نہیں دیے رہے، شوہر کہتے ہیں کہ سارا کاروبار میرا ہے کیوں کہ فار مولا میرا ہے۔تو کیا اب اس کاروبار میں میراحصہ بنتا ہے یا نہیں؟ 

جبکہ کاروبار شراکت کے طور پر شروع نہیں کیا تھا۔

 کاروبار کا سارا کام اور ورکرز کو میں دیکھتی ہوں، تو کیا اس پر اجرت طلب کرنا میرے لیے درست ہے یا نہیں ؟ اور کس حساب  سے اجرت متعین کی جاۓگی؟

2۔  گھر کا خرچہ، میرا نان نفقہ  اور بچوں کی کفالت کس کے ذمہ  ہے ؟

شوہر پر گھر کا خرچہ  کتنا اور کس حساب سے د ینا لازم ہو گا؟

جب گھر کی ساری ذمہ داری میری ہے، اور وہ مجھے اس مہنگائی کے دور میں مہینہ کا 17000 روپے دیتے ہیں،تو کیا میں گھر کا خرچہ بڑھانے کی بات کر سکتی ہوں یا نہیں ؟

 مایونیز کے پرافٹ سے مجھے اور میرے بچوں کو عمرہ و حج کرایا ہے، اب اس کے قرضے کے نام پر گھر کے خرچہ سے پیسے کاٹنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں جب سارا سرمایہ شوہر کا ہے، بیوی نےکوئی سرمایہ نہیں لگایا ہے، صرف شوہر کے ساتھ کام میں مدد کرتی ہے اور کاروبار شروع کرتے وقت دونوں کے درمیان کوئی عقد بھی نہیں ہوا تھا،تو ایسی صورت میں جتنا نفع ہوا ہے  وہ سب شوہر کا ہے، اس میں بیوی کا کوئی حصہ نہیں ہے،اس کاروبار میں بیوی کی حیثیت ایک معاون کی ہوگی۔

البتہ اگر سائلہ بغیر اجرت کے شوہر کے ساتھ کام کرنے پر راضی نہ ہو تو شوہر اس سے زبردستی بغیر اجرت کے کام نہیں  کرواسکتا، سائلہ کے لیے اس کام کی اجرت طلب کرنا درست ہے۔دونوں باہمی رضامندی سے جو اجرت متعین کرلیں، تو شوہر پر اسی حساب سے اپنی بیوی کو اجرت ادا کرنا لازم ہوگا، اور عرف میں اس جیسے کام کی جو اجرت بازار میں مزدوروں کو دی جاتی ہے، تو دونوں کے لیے وہی اجرت  آپس میں طے کر لینا زیادہ بہتر ہے۔     

2۔ گھر کا خرچہ،بیوی کا نان نفقہ اور بچوں کی کفالت شرعا شوہر پر لازم ہے، نان نفقہ سے مراد بقدرِ  کفایت  کھانے پینے، کپڑے، اور مکان کا انتظام کرنا ہے،اور اس نان نفقہ کی کوئی خاص مقدار شریعت میں مقرر نہیں ہے،شوہر  پر اپنی  استطاعت و  حیثیت  اور بیوی، بچوں کی حاجت کے مطابق نان نفقہ لازم ہے،اس میں بچوں کے نان نفقہ کے ساتھ  تعلیم وتربیت  علاج معالجہ  کا خرچہ بھی حیثیت کے مطابق شامل ہے۔اگر بیوی شوہر کی استطاعت سے زیادہ اخراجات کا مطالبہ کرے تو شوہر پر ان اخراجات کا پورا کرنا لازم نہیں ہے،  البتہ رہائش،کپڑے اور کھانے کےعلاوہ بھی بیوی کی ضروریات ہوتی ہیں اس لیے اچھا یہی ہے کہ  اس کو  الگ سے ماہوار   کچھ جیب خرچ بھی حسبِ حیثیت دیا جائے، جس کو بیوی اپنی مرضی سے اپنی ضروریات میں استعمال کر سکتی ہو،تاہم بیوی اس کو اپنے نان نفقہ کا حصہ سمجھ کر مطالبہ کرنے کی مجاز نہیں ہوگی،  شوہر  اگر نہیں دیتا تو شرعا اسےملامت بھی نہیں کیا جا سکتا۔

اگر گھر کے تمام کام سائلہ کے ذمہ ہیں، اور شوہر اتنا خرچہ دیتا ہے جس سے گھر کی ضروریات پوری نہیں ہوتی تو سائلہ اپنے شوہر سے اس کی استطاعت کے مطابق خرچہ بڑھانے کا مطالبہ کرسکتی ہے۔

اگر گھر کی ضروریات پوری نہ ہو رہی ہوں تو  سائلہ کے شوہر کے لیے  حج و عمرہ کے قرضہ کے بنیاد پر گھر کے خرچہ  کے لیے پیسے کم دینا درست نہیں ہے۔

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

"ثم ذكر خلافا في المرأة مع زوجها إذا اجتمع بعملهما أموال كثيرة، فقيل هي للزوج وتكون المرأة معينة له، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها، وقيل بينهما نصفان."

(كتاب الشركة، فصل في الشركة الفاسدة، ج:4، ص: 325،  ط: سعيد)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

" الأجر المسمى هو الأجرة التي ذكرت وتعينت حين العقد.أي هو الأجرة التي تعينت بين المتعاقدين حين العقد كما لو آجر إنسان حانوتا من آخر بمائة قرش فالمائة القرش الأجر المسمى."

(الكتاب الثاني الإجارة، المادة:  415، ج: 1، ص: 448، ط: دار الجيل )

و فیه أیضاً:

"لو استخدمت العملة كالحمال والصباغ والقصار والسمسار ومن شابههم ممن يعرفون بتعاطي الأعمال بالأجرة تعطى أجرتهم اليومية إن كانت معلومة، وإذا لم تكن معلومة فيعطون أجرة المثل."

(الكتاب الثاني الإجارة، الباب السادس، الفصل الرابع في إجارة الآدمي، ج: 1، ص: 650، ط: دار الجيل)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"تجب علی الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمیة والفقیرة والغنیة دخل بها أو لم یدخل، كبیرةً کانت المرأة أو صغیرةً، یجامع مثلها، کذا في فتاویٰ قاضي خان. سواء کانت حرةً أو مکاتبةً، كذا في الجوهرة النیرة."

(  كتاب الطلاق ، الباب التاسع عشر فی النفقات ، ج:1، ص: 544، ط: رشیدیة)

وفیه أیضاً:

"‌نفقة ‌الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة".

(کتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الأولاد، ج:1، ص:560، ط: رشيدية)

فقط و الله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711102028

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں