بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہرکی جانب سے حقوق زوجیت ادا نہ کرنے کی صورت میں تنسیخ نکاح کا شرعی حکم


سوال

میری بیٹی کی شادی کو چار سال ہوگئے ہیں ،اس کے دوبچے بھی ہیں،دو سال  سے شوہرمیری بیٹی کو چھوڑکر گاؤں چلا گیا ہے،میں نے خود دومرتبہ اپنی بیٹی  کو گاؤں اس کے پاس بھیجا،مگر وہ اس کو رکھنے کو تیار نہیں ،میں نے اس سلسلہ میں لوگوں کو بھی اس کے پاس بھیجاتھا تاکہ وہ صلح ان دونوں کی کرادے اور بیٹی کا گھر بس جائے ،مگر وہ میری بیٹی (اپنی بیوی)سے اور ان لوگوں سے یہی کہتاہے کہ نہ میں اس کو اپنے پاس رکھوں گا،اور نہ ہی طلاق دوں گا،اپنے باپ کے گھر بیٹھی رہے۔

اب سوال یہ ہےکہ:نہ تو وہ طلاق دے رہا ہے اور نہ ہی اپنے پاس رکھ رہا ہے،اور نہ ہی خرچ دے رہا ہے ،تو اب اس صورت میں عدالت کے ذریعہ اگر میری بیٹی خلع لیتی ہے تو کیا وہ خلع معتبر ہوگی یا نہیں ؟اور اگر نہیں تو اس کا شرعی کیا حل ہوگا راہنمائی فرمائیں ؟

نوٹ :وہ بندہ دوسری  شادی کرچکا ہے ۔

جواب

واضح رہے کہ  خلع کے معتبر اور درست ہونے کے لیے زوجین کی رضامندی شرعاً ضروری ہے،  کوئی  ایک فریق راضی ہو ،دوسرا راضی نہ ہو تو خلع شرعاً معتبر نہیں ہوتا۔لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کی بیٹی (بیوی) شوہر کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ خلع لے  گی،تو اس خلع کا شرعاًکوئی اعتبار نہیں ہوگا۔

صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر خلع دینے پر راضی  نہیں ہو اورشوہر سائل کی بیٹی (بیوی) کو نہ ساتھ رکھ رہاہے،نہ ہی خرچ دے رہا ہے ، اور نہ ہی طلاق یا خلع دے رہا ہے اور سائل کی بیٹی (بیوی) اپنے شوہر سے رشتہ ازدواج ختم کرنا چاہتی ہے تو سائلہ شوہر کے حقوق ، نان و نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر  تنسیخِ نکاح کا  مقدمہ مسلم  عدالت میں دائر کرے،پھر اپنے نکاح کو شرعی گواہوں سے ثابت کرے ،اس کے بعد شوہر کے حقوق ادا نہ کرنے کو شرعی گواہوں سے ثابت کرے ،پھرقاضی شرعی شہادت کے ذریعہ پوری تحقیق کرے،اگر عورت کا دعوی صحیح ثابت ہو کہ شوہر باوجود وسعت کے حقوق ادا نہیں کررہا تو  جج شوہرکوعدالت میں حاضر ہونے کانوٹس جاری کرے  ، اگر شوہر عدالت میں حاضر ہوکر گھر بسانے پر آمادہ  ہوجائے تو ٹھیک،لیکن  اگر وہ عدالت میں حاضر نہ ہو یا حاضر ہو لیکن حقوق کی ادائیگی پر راضی نہ ہو تو عدالت نکاح فسخ کردے، جس کے بعدمذکورہ  عورت اپنی عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

مزیداس مسئلہ کی تفصیل کے لئے  تفصیل کے لئے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ کی کتاب حیلہ ناجزہ میں صفحہ 72، 73کا مطالعہ کریں۔

مبسوطِ سرخسی میں ہے:

"الخلع جائز عند السلطان و غیرہ لانه عقد یعتمد التراضی کسائر العقود و ھو بمنزلة الطلاق بعوض و للزوج ولایة ایقاء الطلاق و لھا ولایة التزام العوض."

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:6، ص:173، ط:السعادۃ)

بدائع الصنائع میں ہے:

"و أمّا ركنه فهو الإيجاب و القبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرْقة و لايستحَق العوض بدون القَبول."

(کتاب الطلاق، فصل فی الخلع، ج:3، ص:145،ط:دارالکتاب العربی)

حیلہء ناجزۃ میں ہے :

"والمتعنت الممتنع عن الإنفاق ففی مجموع الأمیر ما نصه: ان منعھا نفقة الحال فلها القیام فان لم یثبت عسرہ انفق او طلقوإلاطلق علیه، قال محشیه : قوله وإلاطلق علیه ای طلق علیه الحاکم من غیر تلوم…..الی ان قال: وان تطوع بالنفقة قریب اواجنبی فقال ابن القاسم:لها ان تفارق  لان الفراق قد وجب لها،وقال ابن عبدالرحمن:لا مقال لها لان سبب الفراق  هو عدم النفقه قد انتهی وهو الذی تقضیه المدونةکما قال ابن المناصب، انظر الحطاب، انتہی."

(فصل فی حکم زوجة المتعنت،ص:150، ط:دارالإشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702102103

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں