
ہمارے گاؤں میں جب کوئی مرد وفات پا جاتا ہے تو میت کو اٹھانے سے پہلے اس کی بیوی کو میت کے پاس لایا جاتا ہے، پھر مرحوم کے رشتہ دار اس سے کہتے ہیں کہ تم اپنا مہر معاف کر دو، اس پر بیوی مہر کی رقم معاف کر دیتی ہے، اس وقت چونکہ عورت کا دل نرم ہوتا ہے اس لیے اپنی رضامندی سے معاف کرتی ہے، کیا اس طرح مہر معاف کرنے سے وہ واقعۃً معاف ہو جاتا ہے؟ اور اس حالت میں شریعت کے اندر مہر معاف کروانے کی کوئی درست صورت موجود ہے؟ اگر ہے تو تفصیل سے رہنمائی فرمائیں۔
اگر شوہر نے بیوی کا حقِ مہر ادا نہ کیا ہو اور شوہر کا انتقال ہوجائے تو اس عورت کا حق مہر شوہر کے ذمہ واجب الادا قرضہ ہونے کی وجہ سے اس شخص کے ذمہ باقی رہتا ہے، پھراگر کسی علاقے میں یہ رسم ہو کہ شوہر کے انتقال کے موقع پر عورت سے اس کا مہر معاف کروایا جاتا ہو تو یہ رسم قابلِ ترک ہے، ایسے موقع پر مہر کی معافی کا مطالبہ کرنا کسی طرح مناسب نہیں بلکہ اس شدید غم اور دباؤ کے ماحول میں معاف کروانا ہی جائز نہیں اور مہر معاف نہ ہوگا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما بيان ما يسقط به كل المهر، فالمهر كله يسقط بأسباب أربعة ... ومنها: الإبراء عن كل المهر قبل الدخول وبعده إذا كان المهر دينا لأن الإبراء إسقاط، والإسقاط ممن هو من أهل الإسقاط في محل قابل للسقوط يوجب السقوط... ومنها: هبة كل المهر قبل القبض عيناً كان أو ديناً، وبعده إذا كان عيناً."
(كتاب النكاح، فصل بيان ما يسقط به كل المهر، 2/ 295، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وصح حطها) لكله أو بعضه (عنه) قبل أو لا، ويرتد بالرد، كما في البحر."
(کتاب النکاح، باب المھر، مطلب في حط المهر والإبراء منه، 3/ 113، ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"المهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق، كذا في البدائع."
(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيمايتاكد به المهر، ج: 1، صفحه: 304، ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100445
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن