
ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے، والدہ محترمہ گھر میں بہت پریشان رہتی ہیں، ہم چار بھائی اور ایک بہن اسی گھر میں رہتے ہیں، جب کہ ایک بھائی الگ مکان میں رہتا ہے، ہم چاروں بھائی دن کے وقت گھر پر نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے والدہ دن میں اکیلا ہونے کی وجہ سے پریشانی محسوس کرتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا والدہ اپنے اس بیٹے کے گھر جا کر عدت کے باقی ایام گزار سکتی ہیں؟
واضح رہے کہ جس عورت کے شوہرانتقال ہوجائے ، اس پرلازم ہےکہ وہ عدت (چارہ مہینے دس دن)اسی گھرمیں گزارے جہاں اس کے شوہرکا انتقال ہواتھا، کسی شدید مجبوری اور عذر کی بغیر عدت کے دوران گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون پر شوہر کے گھر میں عدت گزارنا لازم ہے، اگر اکیلے گھر میں رہنے کی وجہ سے وحشت یا تنہائی ہوتو اپنے کسی محرم عزیز واقارب کو اپنے گھر ٹھہرالے، اس گھر سے منتقل نہ ہو۔
البتہ اگر کوئی دوسرا شرعی عذر ہو تو اس کے بارے میں دوبارہ سوال کرکے حکم معلوم کیا جاسکتا ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
" (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولايخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لاتجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه۔(قوله: ونحو ذلك) منه ما في الظهيرية: لو خافت بالليل من أمر الميت والموت ولا أحد معها لها التحول - والخوف شديد - وإلا فلا".
(کتاب الطلاق،باب العدۃ،فصل فی الحداد،ج:3،ص؛536،ط:سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما في حالة الضرورة فإن اضطرت إلى الخروج من بيتها بأن خافت سقوط منزلها أو خافت على متاعها أو كان المنزل بأجرة ولا تجد ما تؤديه في أجرته في عدة الوفاة فلا بأس عند ذلك أن تنتقل، وإن كانت تقدر على الأجرة لا تنتقل، وإن كان المنزل لزوجها وقد مات عنها فلها أن تسكن في نصيبها إن كان نصيبها من ذلك ما تكتفي به في السكنى وتستتر عن سائر الورثة ممن ليس بمحرم لها، وإن كان نصيبها لايكفيها أو خافت على متاعها منهم فلا بأس أن تنتقل، وإنما كان كذلك؛ لأن السكنى وجبت بطريق العبادة حقا لله تعالى عليها، والعبادات تسقط بالأعذار، وقد روي أنه لما قتل عمر - رضي الله عنه - نقل علي - رضي الله عنه - أم كلثوم - رضي الله عنها - لأنها كانت في دار الإجارة، وقد روي أن عائشة - رضي الله عنها - نقلت أختها أم كلثوم بنت أبي بكر - رضي الله عنه - لما قتل طلحة - رضي الله عنه - فدل ذلك على جواز الانتقال للعذر، وإذا كانت تقدر على أجرة البيت في عدة الوفاة فلا عذر، فلا تسقط عنها العبادة كالمتيمم إذا قدر على شراء الماء بأن وجد ثمنه وجب عليه الشراء وإن لم يقدر لايجب لعذر العدم.
كذا ههنا، وإذا انتقلت لعذر يكون سكناها في البيت الذي انتقلت إليه بمنزلة كونها في المنزل الذي انتقلت منه في حرمة الخروج عنه؛ لأن الانتقال من الأول إليه كان لعذر فصار المنزل الذي انتقلت إليه كأنه منزلها من الأصل فلزمها المقام فيه حتى تنقضي العدة".
(کتاب الطلاق،فصل فی احکام العدۃ،ج:3،ص:205،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100402
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن