بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے ہم بستری پر قادر نہ ہونے کی صورت میں بیوی کا طلاق کا مطالبہ کرنا


سوال

میری شادی تقریبا 15 سال پہلے ہوئی،  دو سال بعد میرا ایک بیٹا پیدا ہوا،  اب  میری حالت  یہ  ہے کہ میں جماع پر قادر نہیں ہوں، اور  میری بیوی مجھ سے طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ  مجھ سے برداشت نہیں ہوتا،  میں دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتی ہوں ، لہذا مجھے طلاق دے دو ۔

میں تمام اخراجات بھی برداشت کرتا ہوں اور میں رکھنے کے لیے بھی تیار ہوں ، میں نے سمجھانے کی بہت کوشش، مذکورہ صورتِ  حال کو دیکھتے ہوئے بیوی کا طلاق کا مطالبہ کرنا کیسا ہے اور شریعت میری کیا رہنمائی کرتی ہے؟ میں نے ابھی تک سے  صحیح ڈاکٹر سے علاج نہیں کروایا۔

جواب

واضح رہے کہ شادی کے بعد میاں بیوی دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے،  ان حقوق میں سے ایک حق  ”ازدواجی تعلّق“ قائم کرنا بھی ہے،  جس طرح    شوہر   کے جنسی تسکین کے مطالبہ کو پورا کرنا بیوی پر لازم ہے، کسی معقول عذر کے بغیر منع کرنا جائز نہیں ہے، بالکل اسی طرح بیوی کے  جنسی تسکین کے مطالبہ  کو  پورا کرنا شوہر پر بھی لازم ہے، یہ اس کا حق ہے، کیوں کہ جنسی تسکین اور لذت حاصل کرنا جس طرح مرد کی طبیعت اور ضرورت میں داخل ہے،اسی طرح یہ عورت کی فطرت اور طبیعت میں بھی داخل ہے۔

لہذا  صورتِ مسئولہ میں سائل   اب اگر بیوی کے ساتھ ہم بستری  پر قادر نہیں ہے تو اگر اس کا مرض قابلِ علاج ہے تو  اُسے چاہیے کہ کسی مستند اور ماہر ڈاکٹر سے  اپنا علاج کروائے،تاکہ وہ ازدواجی تعلق قائم کرنے کے قابل ہوجائے، اوراگر مرض قابلِ علاج نہیں ہے   یا سال بھر علاج کے بعد  بھی شفایابی نہیں ہوتی اور  بیوی  کے لیے عفّت اور پاک دامنی کے ساتھ رہنا مشکل ہورہا ہے اور وہ اس بنا پر علیحدگی کا مطالبہ کرتی ہے تو  اس کا یہ مطالبہ درست ہے ،  ایسی صورت میں  شوہر کوچاہیے کہ وہ معاملہ لٹکا کر بیوی کو ذہنی اذیت دینے کے بجائے  بیوی کے تقاضے پر خود ہی طلاق دے دے ایسی حالت میں طلاق نہ دینا اور اپنی بیوی کو مجبور کرکے نکاح میں لٹکا کر رکھنا  شوہر کے لیےشرعاًمناسب نہیں ہے، تاکہ وہ گناہ سے بچ جائے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وللزوج ‌أن ‌يطالبها ‌بالوطء ‌متى ‌شاء ‌إلا ‌عند ‌اعتراض ‌أسباب ‌مانعة ‌من ‌الوطء ‌كالحيض ‌والنفاس والظهار والإحرام وغير ذلك، وللزوجة أن تطالب زوجها بالوطء؛ لأن حله لها حقها كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب على الزوج، ويجبر عليه في الحكم مرة واحدة والزيادة على ذلك تجب فيما بينه، وبين الله تعالى من باب حسن المعاشرة واستدامة النكاح، فلا يجب عليه في الحكم عند بعض أصحابنا، وعند بعضهم يجب عليه في الحكم."

(كتاب النكاح، فصل بيان حكم النكاح، 2/ 331، ط: سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب. ويسقط حقها بمرة ويجب ديانة أحيانا ولا يبلغ الإيلاء إلا برضاها، ويؤمر المتعبد بصحبتها أحيانا.

(قوله ويسقط حقها بمرة) قال في الفتح: واعلم أن ترك جماعها مطلقا لا يحل له، صرح أصحابنا بأن جماعها أحيانا واجب ديانة، لكن لا يدخل تحت القضاء والإلزام إلا الوطأة الأولى ولم يقدروا فيه مدة.ويجب أن لا يبلغ به مدة الإيلاء إلا برضاها وطيب نفسها به. اهـ. قال في النهر: في هذا الكلام تصريح بأن الجماع بعد المرة حقه لا حقها اهـ. قلت: فيه نظر بل هو حقه وحقها أيضا، لما علمت من أنه واجب ديانة."

(كتاب النكاح، باب القسم بین الزوجات،  3/ 202،ط: سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144707101977

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں