
ایک عورت شوگر کی مریضہ تھی۔ اس حالت میں وہ ایک اونچی جگہ سے گر گئی، جس سے اس کے جسم کو نقصان پہنچا اس کا شوہر، کثیر مال ہونے کے باوجود نہ تو اس کے علاج معالجے کا مناسب انتظام کرتا تھا ،اور نہ ہی اس نے قریبی رشتہ داروں کو اطلاع دی، اگر پڑوس میں کوئی کہتا کہ اگر آپ علاج نہیں کرا سکتے تو ہم انتظام کر دیتے ہیں، تو وہ جواب دیتا کہ میں خود علاج کا انتظام کر رہا ہوں، شوہر حکیم کی دوائی اور انجیکشن وغیرہ خود لگاتا تھا، حالانکہ اس کے پاس کوئی ڈگری نہیں تھی، بالآخر اس مریضہ کا انتقال ہو گیا، وہ اسے کھانے پینے کی اشیاء بھی فراہم نہیں کرتا تھا، یہاں تک کہ آخر میں اس نے اپنی انگلیاں تک کھا لیں۔
اب اس صورتِ حال میں اس شوہر کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا یہ شوہر قاتل شمار ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص کی اہلیہ شوگر کی مریضہ تھیں اور گر کر زخمی ہوئی تھیں تو اخلاقاً وعرفاً اس کا علاج معالجہ شوہر کی ذمہ داری میں شامل تھا، اگر شوہر نےاس معاملے میں غفلت اور کوتاہی کا مظاہرہ کیا ہے اور از خود حکیم کی دوا سے علاج کرواتا رہا اور انجیکشن بھی خود لگاتا رہا ،تو یہ طرز عمل درست نہیں تھا، بلکہ علاج معالجہ کے سلسلہ میں متعلقہ مرض کے ماہر اطباء سے رجوع کرنا چاہیےتھا۔
تاہم جب مریضہ کا انتقال ہوگیا ہے تو شوہر کو قاتل شمار نہیں کیا جائے ، تاہم وہ اپنی کوتاہی اور غفلت کی بناء پر سخت گناہ کا مرتکب ہو اہے ،اپنے اس فعل پر اللہ کے حضور صدق دل سے توبہ و استغفار کرے۔
البتہ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ شوہر کے کسی عمل (مثلاً غلط دوا دینے یا غلط انجیکشن لگانے ) سے بیوی کا انتقال ہوا ہے ، اس صورت میں حکم جدا ہوگا۔اس صورت میں ثبوت کے بعد دوبارہ دریافت کرلیا جائے ۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے :
"ولا تجب الدواء للمرض ولا أجرة الطبیب."
( کتاب الطلاق ، الباب السابع عشر، الفصل الأول،ج:1، ص:549،ط:رشیدیه )
الفقه الإسلامی وأدلته میں ہے :
"نفقات العلاج: قرر فقهاء المذاهب الأربعة أن الزوج لا يجب عليه أجور التداوي للمرأة المريضة من أجرة طبيب وحاجم وفاصد وثمن دواء، وإنما تكون النفقة في مالها إن كان لها مال، وإن لم يكن لها مال، وجبت النفقة على من تلزمه نفقتها؛ لأن التداوي لحفظ أصل الجسم، فلا يجب على مستحق المنفعة، كعمارة الدار المستأجرة، تجب على المالك لا على المستأجر، وكما لا تجب الفاكهة لغير أدم.ويظهر لدي أن المداواة لم تكن في الماضي حاجة أساسية، فلا يحتاج الإنسان غالباً إلى العلاج؛ لأنه يلتزم قواعد الصحة والوقاية، فاجتهاد الفقهاء مبني على عرف قائم في عصرهم. أما الآن فقد أصبحت الحاجة إلى العلاج كالحاجة إلى الطعام والغذاء، بل أهم؛ لأن المريض يفضل غالباً ما يتداوى به على كل شيء، وهل يمكنه تناول الطعام وهو يشكو ويتوجع من الآلام والأوجاع التي تبرح به وتجهده وتهدده بالموت؟! لذا فإني أرى وجوب نفقة الدواء على الزوج كغيرها من النفقات الضرورية، ومثل وجوب نفقة الدواء اللازم للولد على الوالد بالإجماع، وهل من حسن العشرة أن يستمتع الزوج بزوجته حال الصحة، ثم يردها إلى أهلها لمعالجتها حالالمرض."
(القسم السادس احوال الشخصيه ..الزوجة المريضة،نفقات العلاج ،ج:10، ص:7380،ط:دار الفكر سورية دمشق)
وفيه ايضاً:
"وجوبها: اتفق الفقهاء على وجوب النفقة للزوجة مسلمة كانت أو كافرة بنكاح صحيح، فإذا تبين فساد الزواج وبطلانه رجع الزوج على المرأة بما أخذته من النفقة، وثبت وجوبها بالقرآن والسنة والإجماع والمعقول.أما القرآن: فقول الله تعالى:{لينفق ذو سعة من سعته، ومن قدر عليه رزقه(1)، فلينفق مما آتاه الله، لا يكلف الله نفسا إلا ما آتاها}[الطلاق:7/ 65] وقوله تعالى: {وعلى المولود له: رزقهن وكسوتهن بالمعروف} [البقرة:233/ 2] وقوله سبحانه: {أسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم} [الطلاق:6/ 65] أي على قدر ما يجده أحدكم من السعة والمقدرة. والأمر بالإسكان أمر بالإنفاق؛ لأن المرأة لا تحصل النفقة إلا بالخروج والاكتساب.وأما السنة: فقوله صلى الله عليه وسلم في حديث حجة الوداع عن جابر:اتقوا الله في النساء، فإنهن عوان عندكم، أخذتموهن بأمانة الله، واستحللتم فروجهن بكلمة الله، ولهن عليكم رزقهن وكسوتهن بالمعروف.ورواه الترمذي بإسناده عن عمرو بن الأحوص قال: ألا إن لكم على نسائكم حقا، ولنسائكم عليكم حقا، فأما حقكم على نسائكم فلا يوطئن فرشكم من تكرهون، ولا يأذن في بيوتكم لمن تكرهون. ألا وحقهن عليكم أن تحسنوا إليهن في كسوتهن وطعامهن."
(القسم السادس احوال الشخسيه،الباب الثالث،حقوق اولاد، افصل الخامس النفقات،المبحث الاول نفقۃ الزوجة،،ج:10،ص:7371،ط:دارالفكر سوريةدمشق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101399
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن