
1۔شریعت کا ایسی شادی شدہ عورت کے بارے میں کیا حکم ہے؟ جہاں شوہر عادتا اپنی بیوی کو جسمانی تشدد، ذہنی اذیت اور مالی غفلت (خرچہ نہ دینے )کا نشانہ بناتا ہے ۔جس کی وجہ سے وہ اپنی حفاظت کے لیے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہے، اگر کوئی بیوی صرف اس شدید اور مسلسل نقصان کی وجہ سے شادی ختم کرنا چاہتی ہے تو کیا یہ بغیر کسی وجہ کے طلاق شمار ہوگی یا اسے شوہر کے غلط رویے کی وجہ سے مجبورا ہونے والی قانونی اور جائز علیحدگی مانا جائے گا؟
2۔اگر کوئی شوہر جج کے سامنے حلف کے تحت صلح نامہ پرواضح طور پر دستخط کرتا ہے جس میں وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتا ہے ،محفوظ اور الگ گھر دینے کا وعدہ کرتا ہے اور تمام تر تشدد بند کرنے کا عہد کرتا ہے، لیکن چند ہی ہفتوں میں اپنی بیوی کو دوبارہ مار پیٹ کر اور گھر سے نکال کر ، اس وعدے کو توڑ دیتا ہے تو شریعت میں اس کی کیا حیثیت ہے؟ کیا ایک لازم اور پکے عہد کی یہ خلاف ورزی بیوی کو خود بخود الگ ہونے کا حق دیتی ہے بغیر اس کے کہ اسے ایک نافرمان یا سرکش ناشزہ بیوی تصور کیا جائے؟
3۔قرآنی اصول کے مطابق :"اور تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم نے انہیں یعنی بیویوں کو جو کچھ دیا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس لو۔"(سورۃ البقرۃ:229) کیا کسی شوہر کو اسلام میں اس بات کی اجازت ہے کہ وہ حق ِمہر کی واپسی یا اسے معاف کرنے کا مطالبہ کرے جبکہ علیحدگی کی پوری وجہ اس کا جسمانی تشدد اور محفوظ گھر فراہم کرنے میں ناکامی ہو؟ اگر کوئی جج ان حالات میں شادی ختم (فسخ )کر دیتا ہے تو کیا بیوی اپنا مہر رکھنے کی حقدار ہے کیونکہ یہ علیحدگی شوہر کے ظلم کی وجہ سے مجبورا ہوئی ہے؟
4۔ایسے شوہر کے بارے میں فقہ کا کیا مؤقف ہے جو جان بوجھ کر اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے اور اس کی زندگی اتنی اجیرن بنا دیتا ہے کہ وہ اس کےظلم سے بچنے کے لیے خلع لینے اور اپنے مالی حقوق چھوڑنے پر مجبور ہو جائے کیا یہ عمل سورۃ النساء میں ذکر کردہ عضل( تنگ کرنے) کی سخت ممانعت کے زمرے میں نہیں آتا؟" اور انہیں اس لیے تنگ نہ کرو کہ جو کچھ تم نے انہیں دیا ہے اس کا کچھ حصہ واپس لے لو ۔" اگر ایسا ہے ،تو کیا مہر قانونی اور اسلامی بیوی کے لیے محفوظ رہے گا؟
سائلہ کے جوابات حسب ِ ترتیب مذکور ہیں:
1۔ صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر اپنی بیوی کو جسمانی تشدد کا نشانہ بناتاہو اور نان و نفقہ نہ دیتا ہو تو بیوی اپنے شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے، اس پر کوئی گناہ نہیں،لیکن یہ واضح رہے کہ خلع میاں بیوی کے درمیان ایک مالی معاملہ ہے جس میں فریقین (میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہے،لہٰذا بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مہرکی معافی یا کسی اور عوض کی ادائیگی کے بدلے اپنے شوہرسے خلع لے لے، اگر خلع کا عوض مہر کو مقرر کیا جائے تو بیوی نے اگر مہر وصول کرلیا ہے تو مہر واپس کرنا ہوگا اور اگر مہر وصول نہیں کیا تو شوہر کے اوپر جو مہر دینا لازم تھا، وہ معاف ہوجائے گا، اور خلع کے ذریعے عورت پر ایک طلاقِ بائنہ واقع ہوجائے گی، وہ اپنی عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
2۔اگر واقعتہ شوہرجج کے سامنے حلف کے تحت اپنی ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتاہے اور تمام تر تشدد بند کرنے کاوعدہ کرتاہے، لیکن چند ہی ہفتوں میں اپنی بیوی کو دوبارہ مار پیٹ کر اور گھر سے نکال کر ، اس وعدے کو توڑ دیتا ہے تو اگر جج کے سامنے صلح نامہ مشروط تھااس بات پر کہ معاہدہ کی خلاف ورزی کی صورت میں عورت اپنے اوپر طلاق واقع کرنے میں مختار ہوگی تو عورت کو طلاق کا اختیار حاصل ہوگا اور عورت نافرمان قرار نہیں دی جائے گی۔لیکن اگر معاہدہ مشروط نہ ہو تو عورت کو خود اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔تاہم عورت کو یہ حق حاصل ہوگا کہ عدالت میں رجوع کرکے جج کو شوہر کا رویہ بتا کر تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کردے۔
3۔خلع کے عوض کے بارے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ اگر زیادتی شوہر کی طرف سے ہو تو اس کے لیے مہر کا عوض لینا مکروہِ تحریمی ہے۔تاہم اس کے باوجود اگرکوئی قاضی شرعی اصولوں کے مطابق زوجین کے درمیان مہر کے عوض ،خلع کا فیصلہ کرتاہے تو عورت نکاح فسخ ہونے کی صورت میں مہر شوہر کو واپس دے گی۔
4۔صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ آیت :وَلا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ (سورة النساء:19) كا حاصل یہ ہے کہ عورتوں کو اپنی مرضی کا نکاح کرنے سے نہ روکو، اس خیال پر کہ جو مال تم نے یا تمھارے عزیز نے ان کو بطور ِمہر کے یا بطور ہدیہ تحفہ کے دےدیا ہے وہ اس سے واپس لے لو ، مہر دینے اور واپس لینے میں یہ بھی داخل ہے کہ جو مہر دینا مقرر کر چکے ہیں اس کو معاف کرایا جائے، غرض دیا ہوا مہر جبرا و اپس لیں یا واجب الادا کو جبرا معاف کرائیں ، یہ سب نا جائز اور حرام ہیں ، اسی طرح جو مال بطور ہدیہ تحفہ کے مالکانہ طور پر بیوی کو دیا جا چکا ہے ، ان کا واپس لینا نہ خود شوہر کے لئے حلال ہے نہ اس کے وارثوں کے لئے۔
لہٰذا اگر زیادتی شوہر کی طرف سے ہو تو اس کے لیے مہر کا عوض لینا مکروہِ تحریمی ہے۔تاہم اگر شوہر مہر کے عوض خلع دینے پر راضی ہو تو بیوی شوہر کو مہر واپس کرکے خلع لے لے تو درست ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية. إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع. وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان."
(كتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع، الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، ج: 1، ص: 488، ط: دار الفكر بيروت)
حیلہ ناجزۃ میں ہے :
"والمتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصه : ان منعها نفقة الحال فلها القیام فان لم یثبت عسره انفق او طلق و الا طلق عليه ، قال محشيه : قوله والا طلق عليه ای طلق عليه الحاکم من غیر تلوم…..الی ان قال: وان تطوع بالنفقة قریب اواجنبی فقال ابن القاسم:لها ان تفارق لان الفراق قد وجب لها، وقال ابن عبدالرحمن: لا مقال لها لان سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهي وهو الذی تقضيه المدونۃ کما قال ابن المناصب، انظر الحطاب، انتهي."
(فصل فی حکم زوجة المتعنت،ص:72، 150،ط:دار الاشاعت)
وفی المبسوط للسرخسی:
"والخلع جائز عند السلطان وغیره لأنه عقد یعتمد التراضی کسائر العقود وهو بمنزلة الطلاق بعوض."
(باب الخلع،ج:6،ص: 173،ط:دار المعرفة)
معارف القرآن میں ہے:
"وَلا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّیعنی عورتوں کو اپنی مرضی کا نکاح کرنے سے نہ روکو، اس خیال پر کہ جو مال تم نے یا تمھارے عزیز نے ان کو بطور ِمہر کے یا بطور ہدیہ تحفہ کے دےدیا ہے وہ اس سے واپس لے لو ، مہر دینے اور واپس لینے میں یہ بھی داخل ہے کہ جو مہر دینا مقرر کر چکے ہیں اس کو معاف کرایا جائے، غرض دیا ہوا مہر جبرا و اپس لیں یا واجب الادا کو جبرا معاف کرائیں ، یہ سب نا جائز اور حرام ہیں ، اسی طرح جو مال بطور ہدیہ تحفہ کے مالکانہ طور پر بیوی کو دیا جا چکا ہے ، ان کا واپس لینا نہ خود شوہر کے لئے حلال ہے نہ اس کے وارثوں کے لئے۔"
(سورة النساء،آیت:19،ج:2،ص:352،ط:مکتبہ معارف القرآن)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100847
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن