بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1448ھ 02 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے انتقال کے بعد دوران عدت ملازمت کے لیے جانا


سوال

میرے شوہر نو سال قبل بیمار ہونا شروع ہوگئے تھے،اور آہستہ آہستہ ان کی بیماری شدت اختیار کرتی گئی،بالاخر 31 مئی 2026 کو ان کا انتقال ہوا۔اس وقت میری عدت جاری ہے۔

میرے تین چھوٹے بچے ہیں،بڑے کی عمر 12 سال،دوسرے کی عمر نو سال اور چھوٹے بچے کی عمر ڈھائی سال ہے۔میں ایک نجی کالج میں بطور معلمہ ملازمت کرتی ہوں،جو کہ ایک لڑکیوں کا کالج ہے،میرے شوہر کی بیماری کے دوران علاج اور گھریلو اخراجات کا بڑا حصہ میں خود اور میرے جیٹھ برداشت کرتے رہے ہیں۔شوہر کے انتقال کے بعد بھی میرے جیٹھ کچھ مالی تعاون کر رہے ہیں،لیکن میری اور میرے بچوں کی مکمل اور مستقل کفالت ان کے ذمے نہیں ہے۔بنیادی طور پر بچوں کی ضروریات،تعلیم اور دیگر اخراجات کی ذمہ داری مجھ پر ہی ہے۔

کالج کی طرف سے جولائی تک چھٹی کی سہولت موجود ہے،لیکن اس کے بعد طویل غیرحاضری کی صورت میں ملازمت برقرا رہنے کی ضمانت موجود نہیں ہے،کیونکہ نجی اداروں میں ملازمت کا تحفظ محدود ہوتا ہے۔کالج انتظامیہ نے فی الحال تعاون کا یقین دلایا ہے،تاہم مستقبل میں ملازمت ختم ہونے کا اندیشہ موجود ہے۔

براۓ کرم راہ نمائی فرمائیں کہ کیا دوران عدت مجھے اپنی ملازمت پر جانے کی سہولت موجود ہے،جبکہ ملازمت ختم ہونے کا اندیشہ ہو؟

کیا بچوں کی کفالت اور معاشی ضروریات کے پیش نظر گھر سے کالج آنےجانے کی گنجائش ہے؟

اس صورت میں عدت کے دوران کن شرائط کا خیال رکھنا ضروری ہوگا؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر آپ کے پاس واقعتًا بچوں کی کفالت اور گھر کی ضروریات کا کوئی انتظام نہیں ہے،اور طویل غیر حاضری کی صورت میں ملازمت ختم ہونے کا بھی اندیشہ ہے،تو آپ صرف دن کے اوقات میں مکمل پردے کا اہتمام کرتے ہوۓ اپنی ملازمت کے لیے جاسکتی ہیں،البتہ رات گھرسے باہر نہیں گزار سکتیں،بلکہ رات گزارنے کے لیے اپنے گھر آنا ضروری ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما المتوفى عنها زوجها فلا تخرج ليلا ولا بأس بأن تخرج نهارا في حوائجها؛ لأنها تحتاج إلى الخروج بالنهار لاكتساب ما تنفقه؛ لأنه لا نفقة لها من الزوج المتوفى بل نفقتها عليها فتحتاج إلى الخروج لتحصيل النفقة، ولا تخرج بالليل لعدم الحاجة إلى الخروج بالليل."

(کتاب الطلاق، فصل في أحكام العدة، ج:3، ص:205، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ومعتدة موت تخرج في الجديدين وتبيت) أكثر الليل (في منزلها) لأن نفقتها عليها فتحتاج للخروج، حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها الخروج فتح."

(کتاب الطلاق، باب العدة، فصل فی الحداد، ج:3، ص:536، ط:ایچ ایم سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712101172

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں