بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 محرم 1448ھ 15 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا فون پر تین طلاقیں دینا


سوال

میرے خاوند نے فون کیا ، اور فون پر بات کرتے ہوۓ کہا:طلاق طلاق طلاق، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں صحیح ہے نا ، طلاق دیتا ہوں  ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ۔

یہ بات انہوں نے فون پر کہی  ، جس کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے،اور وہ اس کا انکار بھی نہیں کررہا ہے۔

انہوں نے طلاق کے جو الفاظ بولے ہیں ، ہمیں اس بابت تحریری فتوی چاہیئے۔ آیا طلاقیں ہوگئی ، اور کتنی ہوئیں ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں سائلہ کو  اگر واقعتا  اس کے خاوند  نے فون پر  یہ الفاظ کہے   ہیں :"طلاق طلاق طلاق، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں صحیح ہے نا ، طلاق دیتا ہوں  طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں"  توان الفاظ سے سائلہ پر مجموعی طور پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ،  نکاح  ختم ہوچکا ہے ،جس کے نتیجہ میں سائلہ اپنے شوہر   پر  حرمت مغلظہ کے ساتھ  حرام ہوگئی ہے  ،اب شوہر کے لیے رجوع کرنے یا تجدید نکاح کی گنجائش نہیں ہے ۔ 

سائلہ پر عدت گزارنا لازم ہے اور عدت (حمل نہ ہوتو تین ماہ واریاں ، حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش )  مکمل ہوجانے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے سائلہ آزاد ہوگی۔

سورۃ البقرۃ میں  ارشاد ہے:

"فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ."(البقرة:٢٣٠)

ترجمہ:"پھر اگر کوئی تیسری طلاق دے دے عورت کو تو پھر وہ اس کے لیے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک وہ اس کے سوا ایک خاوند کے ساتھ عدت کےبعد نکاح کرلے۔"(بیان القرآن)

بدائع  الصنائع میں ہے :

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحد۔"

(کتاب الطلاق،فصل فی حکم الطلاق البائن  ٣/١٨٧  ط: مطبعة شركة المطبوعات العلمية بمصر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق وإن عنى بالثاني الأول لم يصدق في القضاء كقوله يا مطلقة أنت طالق أو طلقتك أنت طالق ولو ذكر الثاني بحرف التفسير وهو حرف الفاء لا تقع أخرى إلا بالنية كقوله طلقتك فأنت طالق كذا في الظهيرية."

(کتاب الطلاق،ألباب الثانی فی إیقاع الطلاق، الفصل الأول فی الطلاق الصریح  ١/٣٥٦  ط:دار الفکر)

فقط واللہ تعالی اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101010

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں