
میری بیٹی جس کی شادی سات سال پہلے فیضان نامی لڑکے سے ہوئی تھی، شادی کے کچھ ہی عرصے بعد معلوم ہوا کہ اس کا شوہر نشہ کرتا ہے، اس کے بعد اس کا دو مرتبہ علاج ہوا لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا، تین بیٹے ہونے کے باوجود وہ نہیں سدھرا، اب تقریباً چھ ماہ سے بہت پریشان ہو کر ہم نے بیٹی کو گھر بٹھایا جس کے بعد وہ جاب کرکے اپنے بچوں کی کفالت کرنے لگی، لیکن کل اس کے شوہر نے موبائل پر طلاق کے الفاظ لکھ کر میسج کیے جو کہ یہ ہیں "میں آپ کو دیتا ہوں طلاق طلاق طلاق" تو کیا اس سے شرعاً طلاق واقع ہوگئی ہے؟
صورت مسئولہ میں اگر واقعتًا شوہر نے بذریعہ میسج ان الفاظ سے طلاق دی ہے کہ "میں آپ کو دیتا ہوں طلاق، طلاق، طلاق" تو اس سے سائل کی بیٹی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں،اور نکاح ختم ہو گیا ہے، اب رجوع یا تجدید نکاح کرنا جائز نہیں ہے، مطلقہ اپنے شوہر پر حر مت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، مطلقہ عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک)گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامة، لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا، ویدخل بھا، ثم یطلقھا او یموت عنھا."
(كتاب الطلاق، الباب السادس فی الرجعة، فصل فیما تحل به المطلقة، ج:1، ص:473، ج:1، مکتبه رشیدیه)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101491
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن