
میری بیٹی کا نکاح آج سے سات سال پہلے ہوا تھا۔ نکاح کے موقع پر لڑکے نے تقریب میں کچھ اخراجات کیے، مثلاً: ایک لاکھ روپے لوگوں کو کھلانے، گاڑی وغیرہ کا کرایہ وغیرہ، اور میری بیٹی کو ایک سونے کی انگوٹھی بھی دی۔ لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی اور نہ ہی میاں بیوی کی آپس میں علیحدگی میں ملاقات ہوئی ہے۔
اب وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ رخصتی نہیں کرائیں گے، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ لڑکی گھر ہی بیٹھی رہے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لڑکے نے دوسری جگہ نکاح کر لیا ہے۔
میں اپنی بیٹی کو اس نکاح سے چھڑوانا چاہتا ہوں۔ لڑکا کہتا ہے کہ وہ طلاق دینے کے لیے تیار ہے لیکن شرط یہ لگاتا ہے کہ مجھے ایک لاکھ روپے اور وہ سونے کی انگوٹھی واپس کی جائے، تب جا کے وہ بیٹی کو چھوڑے گا۔ ان سات سالوں میں لڑکے نے بیٹی کو کوئی خرچ یا مہر وغیرہ بھی نہیں دیا۔
سوالات:
الف۔ کیا لڑکے کے لیے ایک لاکھ روپے اور سونے کی انگوٹھی کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز ہے؟
ب ۔اگر شوہر رخصتی پر آمادہ نہ ہو تو کیا عورت خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے؟
الف۔صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا بیان واقعی درست ہے اور نکاح کے بعد شوہر رخصتی پر آمادہ نہیں ہے، تو شوہر کا خلع یا طلاق کے عوض کسی بھی قسم کا مالی مطالبہ کرنا مکروہ ہے۔ البتہ اگر لڑکی والے اس مطالبے کو مان لیں تو ان پر ایک لاکھ روپے اور سونے کی انگوٹھی کی ادائیگی لازم ہوگی۔
ب۔ اگر شوہر رخصتی پر آمادہ نہ ہو تو لڑکی کے لیے خلع کا مطالبہ کرنا جائز ہے۔
نیز اگر شوہر نہ طلاق دے، نہ خلع پر آمادہ ہو، اور نہ ہی رخصتی پر آمادگی ظاہر کرے، تو عورت شوہر کے تعنت کی بنیاد پر مسلم عدالت میں تنسیخِ نکاح کا دعویٰ دائر کر سکتی ہے۔
اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ سائلہ پہلے شرعی گواہوں کے ذریعے اپنے نکاح کو ثابت کرے، پھر شوہر کی طرف سے تعنت کو بھی گواہوں کے ذریعے ثابت کرے۔
اس کے بعد قاضی شرعی شہادت کی بنیاد پر مکمل تحقیق کرے گا۔ اگر عورت کا دعویٰ درست ثابت ہو جائے کہ شوہر حقوق ادا نہیں کر رہا، نہ گھر بسانا چاہتا ہے، تو قاضی شوہر کو عدالت میں پیش ہونے کا سمن جاری کرے گا۔
اگر شوہر عدالت میں حاضر ہو کرگھر بسانے اور حقوق ادا کرنے پر آمادہ ہو جائے، تو بہتر؛ لیکن اگر وہ حاضر نہ ہو، یا حاضر ہو کر بھی حقوق ادا کرنے پر آمادہ نہ ہو، تو عدالت نکاح کو فسخ کر سکتی ہے۔
فسخِ نکاح کے بعد (اگر خلوت صحیحہ ہوئی ہو تو)عورت عدت گزار کر دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔اور اگرنہ رخصتی ہوئی ہے اور نہ ہی لڑکا اور لڑکی کبھی تنہائی میں ملے ہوں تو عدالت سے فسخ نکاح کے بعد لڑکی پر عدت لازم نہیں ہوگی،فوری طور پر بھی دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوگا۔
الاختيار لتعليل المختار میں ہے :
"وهو أن تفتدي المرأة نفسها بمال ليخلعها به، فإذا فعلا لزمها المال ووقعت تطليقة بائنة ويكره أن يأخذ منها شيئا إن كان هو الناشز، وإن كانت هي الناشزة كره له أن يأخذ أكثر مما أعطاها، وإن أخذ منها أكثر مما أعطاها حل له.
قال: (وهو أن تفتدي المرأة نفسها بمال ليخلعها به، فإذا فعلا لزمها المال ووقعت تطليقة بائنة) والأصل في جوازه قوله تعالى: {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] ، وإنما تقع تطليقة بائنة لقوله عليه الصلاة والسلام: «الخلع تطليقة بائنة».
قال: (ويكره أن يأخذ منها شيئا إن كان هو الناشز) قال تعالى: {وإن أردتم استبدال زوج مكان زوج وآتيتم إحداهن قنطارا فلا تأخذوا منه شيئا} [النساء: 20] فحملناه على الكراهية عملا بالنص الأول، وقيل هي نهي توبيخ لا تحريم، (وإن كانت هي الناشزة كره له أن يأخذ أكثر مما أعطاها) لما روي «أن جميلة بنت عبد الله بن أبي ابن سلول، وقيل حبيبة بنت سهل كانت تحت ثابت بن قيس بن شماس، فأتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله لا أنا ولا هو، فأرسل رسول الله إلى ثابت، فقال: قد أعطيتها حديقة، فقال لها: " أتردين عليه حديقته وتملكين أمرك؟ فقالت نعم وزيادة، قال: أما الزيادة فلا، فقال عليه الصلاة والسلام: يا ثابت خذ منها ما أعطيتها ولا تزدد وخل سبيلها. ففعل وأخذ الحديقة، فنزل قوله تعالى: {ولا يحل لكم أن تأخذوا مما آتيتموهن شيئا} [البقرة: 229] إلى قوله: {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] » .
(وإن أخذ منها أكثر مما أعطاها حل له) بمطلق الآية."
(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:3، ص:157،156، ط:دار الكتب العلمية)
مجمع الانهر فی شرح ملتقى الابحر میں ہے:
"(ولا بأس به) أي بالخلع (عند الحاجة) بل هو مشروع بالكتاب والسنة وإجماع الأمة عند ضرورة عدم قبول الصلح وفي شرح الطحاوي إذا وقع بينهما اختلاف فالسنة أن يجتمع أهل الرجل والمرأة ليصلحا بينهما فإن لم يصلحا جاز له الطلاق والخلع وفيه إشارة إلى أن عدم الخلع أولى (وكره) [له أي للزوج أخذ شيء من المهر وإن قل لقوله تعالى {فلا تأخذوا منه شيئا} [النساء: 20] إن نشز الزوج وكره أخذ أكثر مما أعطاها من المهر إن نشزت] تحريما وقيل تنزيها (له) أي للزوج (أخذ شيء) من المهر وإن قل لقوله تعالى {فلا تأخذوا منه شيئا} [النساء: 20] (إن نشز) الزوج أي كرهها وباشر أنواع الأذى.
(و) كره (أخذ أكثر مما أعطاها) من المهر (إن نشزت) المرأة فلا يكره أخذ ما قبضته منه هذا على رواية الأصل وعلى رواية الجامع لم يكره أن يأخذ أكثر مما أعطاها لكن اللائق بحال المسلم أن يأخذ ناقصا من المهر حتى لا يخلو الوطء عن المال."
(كتاب الوقف، باب الخلع، ج : 1، ص : 730، ط : دار إحياء التراث العربي)
حیلہ ناجزۃ میں ہے :
"وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير مانصه:إن منعها نفقة الحال فلها نفقة القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه.قال محشيه قوله:وإلا طلق أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم إلي أن قال:وإن تطوع بالنفقة قريب أوأجنبي فقال ابن القاسم لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها.وقال ابن عبدالرحمن لا مقال لها لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهي وهو الذي تقضيه المدونة كما قال ابن المناصف."
(الرواية الثالثة و العشرون، ص : 150، ط : دارالاشاعت)
فتاوی مفتی محمود میں ہے:
”اگر لڑکے والوں کے آگے رخصتی کی کوئی تدبیر کار آمد ثابت نہ ہو تو لڑکی کے لیے کیا حکم ہے؟
سوال:کیا فرماتے ہیں علما و دین و مفتیان شرع متین در یں مسئلہ کہ ایک شخص کا نکاح حالت حضر میں اس کے والد نے ایک شخص کی لڑکی کے ساتھ کر دیا ہے۔ اس بات کو کافی عرصہ ہو چکا ہے ۔ اب لڑکی جوان ہو چکی ہے۔ لڑکی کے والد نے کافی کہا سنا ہے۔ لڑکے کے والدین نے کچھ پروانہیں کی ۔ پھر وہ علاقہ کی پنچائیت کے پاس قصہ کو لے گیا۔ مگر کچھ بات نہ بنی۔ پھر علاقہ کے مفتی کی طرف رجوع کیا۔ اس نے بذریعہ تحریر فریقین کو بلایا ۔ جب لڑکے والے موجود ہوئے تو انھوں نے فیصلہ شرعی سے انکار کر دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں اگر شریعت محمدی ہمارے حق میں فیصلہ کر دے تو ہم مانتے ہیں ۔ ور نہ اسی طرح لڑکی کو رکھنا ہے۔ نہ رخصتی کرنی نہ طلاق دینی ہے۔ پھر علاقہ کے معززین کے سامنے شرعی فیصلہ سے انکاری ہوئے ۔ کیا ایسے شخص تعنت کا نکاح درست رہے گا جس نے چند علماء کے سامنے فیصلہ شرعی سے انکار کر دیا ہے۔ اب لڑکی کا والد مجبور ہے کیونکہ عصمت کا خطرہ ہے۔
جواب:صورت مسئولہ میں اگر نہ لڑکے والے اس لڑکی کو آباد کرتے ہیں اور نہ اسے طلاق دیتے ہیں، قصدا اس کی زندگی خراب کرتے ہیں تو یہ عورت کسی مسلمان حاکم کی عدالت میں دعویٰ دائر کر دے اور خاوند کے تعنت کو ثابت کرے۔ اگر واقعی حاکم کے پاس خاوند کا تعنت ثابت ہو جائے اور وہ حاکم نکاح فسخ کر دے تو عورت شرعاً دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے ۔“
(کتاب الطلاق، ساتواں باب: نامرد ،پاگل، عمر قید ہونے اور دیگر عوارض کی وجہ سے تنسیخِ نکاح کے مفصل احکام، ج : 7، ص : 58، ط : جمعیہ پبلیکیشنز لاہور)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100186
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن