بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ذو الحجة 1447ھ 15 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی سے یہ کہنا کہ اگر تم پکی مستقل طور پر اپنے میکے والے گھر رہنے کے لیے گئی تو تم کو تین طلاقیں ہیں سے طلاق کب واقع ہوگی؟


سوال

خاوند نے بیوی سے کہا کہ ”اگر میری اجازت کے بغیر بچوں کو کسی بھی کورس میں داخلہ لے کر دیا تو تم کو تین طلاقیں ہیں“۔

بیوی نے باقاعدہ طور پر کہیں داخلہ تو لے کر نہیں دیا مگر خاوند کی اجازت کے بغیر بچی سے کہا کہ فلاں جگہ سے آن لائن ہونے والا درس سن لیا کرو۔ بچی سنتی بھی رہی اور بعض مواقع پر لکھتی بھی رہی۔

خاوند نے بیوی سے یہ بھی کہا کہ” اگر تم پکی مستقل طور پر اپنے میکے والے گھر رہنے کے لیے گئی تو تم کو تین طلاقیں ہیں“۔

پھر ایک دن جھگڑا ہوا، بیوی کا بھائی بھی آیا، بیوی نے مستقل طور پر جانے کے لیے سامان باندھا، مگر بیوی کا بھائی یہ کہہ کر اس کو لے کر گیا کہ میں اس کو کچھ دنوں کے لیے لے کر جا رہا ہوں۔ اس طرح بیوی بھائی کے ساتھ چلی گئی اور کہہ رہی تھی کہ” میں واپس نہیں آؤں گی“،  جبکہ سامان ساتھ لے کر نہیں گئی۔ شروع شروع میں اس نے واپس آنے سے انکار کیا مگر پھر خاوند کی طرف سے معافی اور صلح کے بعد واپس آگئی اب دونوں اکٹھے رہ رہے ہیں ۔

آپ سے یہ دریافت کرنا مقصود ہے کہ براہِ کرم اس بات کی وضاحت فرما دیں کہ مذکورہ خاوند اور بیوی کے درمیان طلاقیں واقع ہوچکی ہیں یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  شوہرنے بیوی سےجو یہ  کہا تھا  کہ ”اگر میری اجازت کے بغیر بچوں کو کسی بھی کورس میں داخلہ لے کر دیا تو تم کو تین طلاقیں ہیں“ اور  اس کے بعدبیوی نے  شوہر کی اجازت کے بغیر   بچی کو آن لائن درس سننے کا کہا تواس کی وجہ سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے؛ کیونکہ شوہر نے داخلہ لینے پر تین طلاق کے وقوع کو معلق کیا تھا اور بیوی نے بچی کا باقاعدہ داخلہ نہیں کروایا تھا۔ البتہ جب بھی بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر بچوں کو کسی کورس میں داخل کروائے گی تو اس پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔

اسی طرح شوہر نے بیوی سے جو یہ کہا تھا کہ” اگر تم پکی مستقل طور پر اپنے میکے والے گھر رہنے کے لیے گئی تو تم کو تین طلاقیں ہیں“ اور اس کے بعد  جھگڑے کی وجہ سے بیوی یہ کہہ کر میکے چلی گئی کہ ”میں واپس نہیں آؤں گی“، لیکن اپنا سامان ساتھ نہیں لے کر گئی اور بعد میں آپس میں صلح کرکے واپس آگئی تو اس کی وجہ سے بھی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہو ئی ہے؛ کیونکہ بیوی مستقل طور پر میکے رہنے نہیں گئی، البتہ اب جب بھی بیوی مستقل طور پر اپنے میکے  رہنے کے لیے جائے گی تو اس  پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں  گی۔

تبیین الحقائق میں ہے:

"قال رحمه الله (لا يسكن هذه الدار أو البيت أو المحلة فخرج وبقي متاعه وأهله حنث) أي لو حلف لا يسكن هذه الأشياء فخرج بنفسه ولم يرد الرجوع وبقي متاعه فيها حنث لأن يمينه انعقدت على السكنى وهي تكون بنفسه وعياله ومتاعه فما لم يخرج الكل فهو ساكن فيها عرفا لأن السكنى عبارة عن الكون في مكان على سبيل الاستقرار والدوام فإن من يقعد في المسجد أو في السوق لا يعد ساكنا فيه لعدم ما ذكرنا وهي تكون بهذه الجملة وضدها وهو عدم السكنى يكون بإخراجها."

(کتاب الأیمان، باب اليمين في الدخول والخروج والسكنى والإتيان وغير ذلك، ج: 3، ص: 119، ط: دار الکتاب الإسلامي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."

(کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج: 1، ص: 420، ط: دار الفکر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100213

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں