
میں شادی سے پہلے سے نوکری کرتی ہوں۔ شادی کے بعد جب کبھی ضرورت پڑی تو میں نے اپنے شوہر کو پیسے دیے۔اگر اب کبھی میرے شوہر مجھ سے پیسے مانگتے ہیں اور میرے پاس نہیں ہوتے تو غصہ کرتے ہیں اور پھر مجھ سے حساب لیتے ہیں کہ تنخواہ کہاں کہاں استعمال ہوئی۔ قران حدیث کی روشنی میں کیا حکم ہے؟ اور اگر بیوی کماتی ہو تو وہ اپنے شوہر سے پوچھ کر خرچ کرے یا اپنی مرضی سے خرچ کرسکتی ہے؟ اور اپنی مرضی سے ، اپنی بچی ہوئی آمدن سے کوئی پراپرٹی خرید سکتی ہے؟
جواب سے قبل تمہید کے طور پر دو باتیں جاننا ضروری ہیں:
۱) واضح رہے کہ شریعت میں خواتین کو گھر میں رہنے اور بلا وجہ گھر سے نہ نکلنے کا حکم ہے۔خواتین کے گھر سے نکلنے کو فتنہ کا سبب بتلایا ہے۔خواتین کا گھر سے نکلنا مسلمان معاشرے میں فحاشی اور عریانی پھیلنے کا ذریعہ ہے۔اسی وجہ سے خواتین کا نان نفقہ اللہ تعالی نے شادی سے قبل والد یا دیگر عصبات پر اور شادی کے بعد شوہر پر واجب کیا ہے، کہ وہ گھر سے باہر نکل کر مزدوری اور کاروبار کر کے کمائیں اور خواتین گھر میں رہیں۔ خواتین کو گھر سے باہر کی ذمہ داریوں سے آزاد کر کے ان کے ذمہ گھریلو ذمہ داریاں ڈالی ہیں تاکہ مرد محنت مزدوری کر کے کمائے اور خواتین گھر میں رہ کر شوہر کی خدمت اور بچوں کی تربیت کریں تا کہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پاسکے۔ہاں کوئی ایسی خاتون ہو جس کی معاش کا کوئی انتطام نہ ہو تو سخت مجبوری کی حالت میں (اگر شادی شدہ ہو تو شوہر کی اجازت سے ) اس عورت کے لیے مکمل پردہ کے ساتھ ایسی نوکری کرنا جائز ہے جہاں مردوں سے اختلاط نہ ہو۔
۲) واضح رہے کہ بیوی کو جو ذاتی مال ہو اس میں بیوی کو تصرف کرنے کا اختیار ہے اور ہر جائز امر میں خرچ کرنے کا اختیار ،شوہر کو بیوی سے حساب کتاب لینے اور اپنے لیے مال کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں بلکہ شوہر کے ذمہ تو بیوی کو اس کی ضروریات کے لیے نان نفقہ دینا ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کے شوہر کا مذکورہ عمل کے سائلہ سے مال کا مطالبہ کرنا اور پھر پیسے نہ ہونے پر غصہ کرنا اور سائلہ سے سائلہ کے مال کے متعلق سوال جواب کرنا درست نہیں ہے، سائلہ کے شوہر کو اس کا حق نہیں ہے۔ہاں سائلہ کے شوہر کو اس بات کا حق ضرور ہے کہ وہ سائلہ کو نوکری سے منع کرے اور گھر میں رہ کر خانگی ذمہ داریاں سنبھالنے کا پابند کرے، بلکہ شوہر کو ایسا کرنا چاہیے اورسائلہ کے اخراجات کو احسن طریقہ سے اپنی حیثیت کے مطابق پورا کرنا چاہیے ۔نیز سائلہ کو بھی چاہیے کہ اگر اس کا خرچہ شوہر پورا کرتا ہے تو وہ نوکری کرنا چھوڑ دے اور قرآنی حکم "و قرن في بيوتكن(ترجمہ از بیان القرآن: تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو (مراد اس سے یہ ہے کہ محض کپڑا اوڑھ لپیٹ کر پردہ کرلینے پر کفایت مت کر بلکہ پردہ اس طریقہ سے کرو کہ بدن مع لباس نظر نہ آوے جیسا آج کل شرفاء میں پردہ کا طریقہ متعارف ہے کہ عورتیں گھروں ہی سے نہیں نکلتیں، البتہ موقع ضرورت دوسری دلیل سے مستشنی ہیں)" پر عمل کرتے ہوئے ایک گھریلو خاتون باپردہ خاتون بن کرزندگی گزارے۔ شوہر کی طرف سے جو خرچ ملے اس پر گزارا کرنے کی کوشش کرے ، کچھ کمی بیشی ہو تو اس پر صبر کرے ۔ہاں ایسی حالت ہوجائے کہ شوہر بنیادی ضرورت بھی پوری نہ کرسکے تو پھر شوہر کی اجازت سے پردہ کے ساتھ ایسی جگہ نوکری کرے جہاں مردوں سے اختلاط نہ ہوتا ہو۔
احکام القران میں ہے:
وقوله تعالى وقرن في بيوتكن روى هشام عن محمد بن سيرين قال قيل لسودة بنت زمعة ألا تخرجين كما تخرج إخوتك قالت والله لقد حججت واعتمرت ثم أمرني الله أن أقر في بيتي فو الله لا أخرج فما خرجت حتى أخرجوا جنازتها وقيل إن معنى وقرن في بيوتكن كن أهل وقار وهدوء وسكينة يقال وقرفلان في منزله يقر وقورا إذا هدأ فيه واطمأن به وفيه الدلالة على أن النساء مأمورات بلزوم البيوت منهيات عن الخروج وقوله تعالى ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى روى ابن أبي نجيح عن مجاهد ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى قال كانت المرأة تتمشى بين أيدي القوم فذلك تبرج الجاهلية وقال سعيد عن قتادة ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى يعني إذا خرجتن من بيوتكن قال كانت لهن مشية وتكسر وتغنج فنهاهن الله عن ذلك وقيل هو إظهار المحاسن للرجال وقيل في الجاهلية الأولى ما قبل الإسلام والجاهلية الثانية حال من عمل في الإسلام بعمل أولئك فهذه الأمور كلها مما أدب الله تعالى به نساء النبي صلى الله عليه وسلم صيانة لهن وسائر نساء المؤمنين مرادات بها."
(سورۃ الاحزاب، آیت نمبر ۳۳، دار احیاء التراث العربی)
مرقاۃ الماتیح میں ہے:
"وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «المرأة عورة فإذا خرجت استشرفها الشيطان» . رواه الترمذي
(استشرفها الشيطان) أي زينها في نظر الرجال وقيل: أي نظر إليها ليغويها ويغوي بها والأصل في الاستشراف رفع البصر للنظر إلى الشيء وبسط الكف فوق الحاجب والعورة السوأة وكل ما يستحى منه إذا ظهر، وقيل أنها ذات عورة والمعنى أن المرأة غيرها بها فيوقعها أو أحدهما في الفتنة أو يريد بالشيطان شيطان الإنس من أهل الفسق أي إذا رأوها بارزة استشرفوها بما بثه الشيطان في نفوسهم من الشر ومحتمل أنه رآها الشيطان فصارت من الخبيثات بعد أن كانت من الطيبات."
(کتاب النکاح، باب النظر، ج نمبر ، ص نمبر ۲۰۵۴، دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقا
(قوله كأنثى مطلقا) أي ولو لم يكن بها زمانة تمنعها عن الكسب فمجرد الأنوثة عجز إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجة وهل إذا نشزت عن طاعته تجب لها النفقة على أبيها محل تردد فتأمل، وتقدم أنه ليس للأب أن يؤجرها في عمل أو خدمة، وأنه لو كان لها كسب لا تجب علي."
(کتاب الطلاق، باب النفقہ، ج نمبر ۳، ص نمبر ۶۱۴، ایچ ایم سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي البحر: له منعها من الغزل وكل عمل ولو تبرعا لأجنبي ولو قابلة أو مغسلة - لتقدم حقه على فرض الكفاية، ومن مجلس العلم إلا لنازلة امتنع زوجها من سؤالها، ومن الحمام إلا النفساء وإن جاز بلا تزين وكشف عورة أحد. قال الباقاني: وعليه فلا خلاف في منعهن للعلم بكشف بعضهن، وكذا في الشرنبلالية معزيا للكمال
مطلب في منع النساء من الحمام (قوله ومن الحمام إلخ) المنع منه قول الفقيه، وخالفه قاضي خان فقال: دخوله مشروع للنساء والرجال، خلافا لما قاله بعض الناس، لكن إنما يباح إذا لم يكن فيه إنسان مكشوف العورة. اهـ وعلى ذلك فلا خلاف في منعهن للعلم بأن كثيرا منهن مكشوف العورة، وقد وردت أحاديث تؤيد قول الفقيه وورد استثناء النفساء والمريضة، وتمامه في الفتح، وقال قبله: وحيث أبحنا لها الخروج فإنما يباح بشرط عدم الزينة وتغيير الهيئة إلى ما يكون داعية لنظر الرجال والاستمالة. قال الله تعالى - {ولا تبرجن تبرج الجاهلية الأولى} [الأحزاب: 33]- اهـ وأشار الشارح بقوله وإن جاز إلى قول قاضي خان، وإلى أنه لا ينافي منع الزوج لها من دخوله مع مشروعيته لها كما لا ينافي منعها من صوم النفل وإن كان مشروعا، نعم ينافي منعها من دخوله ولو بإذن الزوج والظاهر أنه مراد الفقيه خلافا لما فهمه الشرنبلالي."
(کتاب الطلاق، باب النفقہ، ج نمبر ۳، ص نمبر ۶۰۳، ایچ ایم سعید)
فتویٰ نمبر : 144709102069
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن