
حق مہر کے بارے میں کہ یہ بیوی کا حق ہےاس کو اختیار ہے یا شوہر کو واپس کرنے کی پابند ہے،یا اپنی مرضی سے باپ یا بھائی یا کسی اور کو دے سکتی ہے،یا کاروبار میں لگاسکتی ہے یا صدقہ کرسکتی ہے۔اس کا مکمل اختیار اس عورت کے پاس ہے یا نہیں ؟
سوال:حق مہر کا مکمل اختیار کس کو حاصل ہے؟آیا یہ بیوی کا حق ہے کہ اس کا کچھ بھی کرلے یا پھر اپنے شوہر کو واپس کرنے کی پابند ہے؟
حقِ مہر کی ادائیگی کے بعد مہر کی رقم عورت کی ملکیت میں شامل ہوجاتی ہے، اب شوہر کا اس رقم پر کوئی حق باقی نہیں رہتا،عورت اس رقم کو جہاں چاہے اور جس کو دینا چاہے اپنی خوشی سے دے سکتی ہے،یہ رقم عورت کی ذاتی ملکیت ہے اورعورت اس میں تصرف کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔
مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:
"المادة (1192) كل يتصرف في ملكه كيفما شاء."
(کتاب العاشر:الشرکات،ص230،ط:نور محمد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101235
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن