
میرے شوہر غصہ میں ہو ں یا اگر میں ان کی بات نہ مانوں تو فوراً جذباتی ہوکر مجھے برا اور الٹا سیدھا کہنے لگتے ہیں اور اپنے بہنوئی اور اپنے فرزند کو لے کر مجھ پر بہتان لگاتے ہیں ، ساتھ میں گالیاں بھی دیتے ہیں اور میری تربیت کو بھی برا کہتے ہیں اور اپنی اور میرے کمرہ تک کی بات کو اپنی ماں کہ دیتے ہیں ۔
انہوں نے کبھی میری عزت نہیں کی اور یہی وجہ ہے کہ ان کے گھر والے بھی مجھے گالیاں دیتے ہیں اور الٹا سیدھا کہتے ہیں ، چھوٹی بہن تک یہ کہتی ہے کہ آپ کو کام کے لیے لے کر آئے ہیں ، میں کام کرتی ہوں، کوئی ہاتھ نہیں بٹاتا کام میں ، اور میرے شوہر منہ بند کرکے سنتے اور دیکھتے ہیں اور اگر کچھ سمجھانے کی کوشش کروں تو کہتے ہیں اللہ نے شوہر کو سجدہ کا حکم دیا ہے ۔
کیا یہ حقیقت ہے کہ شوہر جیسا بھی ہو سجدہ کا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ شریعت نے میاں بیوی دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق عائد کیے ہیں جن کی باہمی ادائیگی کی وجہ سے ہی دونوں جوڑے خوش و خرم رہ سکتے ہیں ، میاں بیوی کا رشتہ برداشت اور مفاہمت سے ہی چل سکتا ہے، عموماً کوتاہی کسی ایک جانب سے نہیں ہوتی بلکہ جانبین سے ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی پائی جاتی ہے ۔لہٰذا ہر ایک کو دوسرے کے حقوق کی ادائیگی اور حسن سلوک سے کام لینا چاہیے ،عورت پر جائز امور میں شوہر کی اطاعت کو لازم قرار دیا گیا ہے اور شوہر کو اپنے اہل و عیال کے ساتھ حسن سلوک کا پابند کیا گیا ہے ۔
بیوی اگر جائز امور میں شوہر کی اطاعت نہیں کرتی تو وہ گناہ گار ہوگی ، اسی طرح اگر شوہر بیوی پر بہتان لگاتا ہے ، گالم گلوچ کرتا ہے تو شوہر کا یہ طرزعمل ناجائز ہے ، شوہر اس عمل کی وجہ سے گناہ گار ہوگا ۔نیز شوہر کا اپنے کمرہ کی گفتگو (میاں بیوی کی رازداری کی باتیں ) اپنی والدہ کو بتانا بھی جائز نہیں ۔
شریعت نے جائز امور میں عورت کو شوہر کا پابند کیا ہے اور شوہر کے حقوق مختلف روایات میں بیان کیے گئے ہیں ، ان میں سے ایک روایت یہ بھی ہے :
"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو كنت آمر أحداً أن يسجد لأحد، لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها."
ترجمہ : " اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ وہ کسی (غیر اللہ) کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔"
(مشکوٰۃ المصابیح ،کتاب النکاح ، باب عشرۃ النساء، الفصل الثانی ،ج:2، ص: 972، ط:المکتب الاسلامی ، بیروت )
البتہ اس سے مراد حقیقی سجدہ کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اس ارشاد گرامی میں اس بات کی اہمیت و تاکید کو بیان کیا گیا ہے کہ بیوی پر اپنے شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری واجب ہے ، لیکن بہرکیف سجدہ صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات وحدہ لا شریک کے لیے خاص ہے ۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ومن آیاته ان خلق لکم من انفسکم ازواجاً لتسکنوا الیها وجعل بینکم مودة ورحمة﴾․ (الروم:21)
ترجمہ: اللہ کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں ، تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اورر حمت پیدا کردی۔
قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے :
﴿ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾ [النساء: 19]
ترجمہ: اور ان عورتوں کے ساتھ خوبی کے ساتھ گزران کرو، اور اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم ایک شے کو ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس کے اندر کوئی بڑی منفعت رکھ دے۔
صحیح مسلم میں ہے :
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « لا يفرك مؤمن مؤمنة، إن كره منها خلقا رضي منها آخر، أو قال غيره »."
ترجمہ: "رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے بغض نہ رکھے، اگر اس کی نظر میں اس عورت کی کوئی خصلت وعادت ناپسندیدہ ہوگی تو کوئی دوسری خصلت وعادت پسندیدہ بھی ہوگی " ۔
(کتاب الرضاع ، باب الوصیۃ بالنساء ، ج:4، ص:178 ، ط : دارالطباعۃ العامرہ )
سنن ترمذی میں ہے :
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أكمل المؤمنين إيماناً أحسنهم خلقاً، وخياركم خياركم لنسائهم»."
ترجمہ: رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: مؤمنین میں سے کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جو ان میں سے بہت زیادہ خوش اخلاق ہو، اور تم میں بہتر وہ شخص ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہے۔
(ابواب الرضاع، باب ما جاء في حق المرأة على زوجها ، ج:3، ص:20، ط: دارالرسالۃ العالمیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101281
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن